1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ربانی کے قتل پر طالبان کا مبہم مؤقف

سابق افغان صدر اور امن کونسل کے سربراہ برہان الدین ربانی کے ایک خودکش حملے میں ہلاکت سے لاتعلقی کے بیان کو طالبان حلقوں میں اختلاف رائے سے تشبیہ دی جارہی ہے۔

Bild: DW/Hussein Sirat Aufnahmeort und -datum: Kabul, 21.09.2011

منگل کو ربانی کی ہلاکت کے بعد خبر رساں ادارے روئٹرز نے طالبان کے ایک ترجمان کے حوالے سے ذمہ داری قبول کرنے کی خبر شائع کی تھی۔ اب ذبیح اللہ مجاہد نامی ایک ترجمان نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بھیجے گئے ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ برہان الدین ربانی کی ہلاکت سے ان کا کوئی لینا دینا نہیں۔ ان کے بیان کے مطابق جب تک طالبان مزید معلومات جمع نہیں کرلیتے وہ اس معاملے پر تبصرہ نہیں کرنا چاہتے۔

افغان امور سے متعلق ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اس بات کی جانب اشارہ کرتا ہے کہ عین ممکن ہے کہ اس کارروائی میں طالبان کے اعلیٰ لیڈر ملا عمر کی رضامندی شامل نہ ہو۔ افغانستان اینالسٹ نیٹ ورک سے وابستہ تجزیہ نگار کیٹ مارک کا کہنا ہے، ’’ چاہے اس کارروائی میں طالبان قیادت کی رضامندی شامل رہی ہو یا سر پھرے عسکریت پسندوں نے اپنے بل بوتے پر یہ کیا ہو یا پھر غیر طالبان عناصر ملوث  ہوں امید یہ تھی کہ طالبان کی جانب سے ایک واضح بیان سامنے آئے گا، جس میں یا تو ذمہ داری قبول کی جاتی یا نہیں۔‘‘

Afghanische Interimsregierung ist vereidigt

۲۰۰۱ء میں بحیثیت افغان صدر برہان الدین ربانی نو منتخب وزیر اعظم حامد کرزئی کو مبارکباد دیتے ہوئے

کیٹ کے بقول اس کے برعکس غیر واضح اور مبہم صورتحال دیکھنے میں آرہی ہے۔ ’’ اس سے عسکریت پسندوں کی اعلیٰ قیادت میں تقسیم کے اشارے ملتے ہیں۔‘‘ بعض تجزیہ نگاروں کے مطابق طالبان کے اس غیر واضح مؤقف کا سبب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ربانی بہت بڑے پائے کہ سوویت مخالف مجاہد کمانڈر اور مقبول اسلامی مبلغ تھے۔ افغان حکومت اور عوامی سطح پر ربانی کے قتل کی ذمہ داری پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی پر بھی عائد کی جارہی ہے۔  پاکستانی حکومت نے البتہ افغان امن کونسل کے سربراہ کی ہلاکت پر گہرے رنج کا اظہار کیا ہے۔ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی ان کے جنازے میں شرکت کے لیے کابل بھی پہنچ رہے ہیں۔ افغان سیکرٹ سروس کے مطابق ربانی کے قتل میں کوئٹہ شوریٰ کے ملوث ہونے کے چند ثبوت موجود ہیں۔

افغان صدر حامد کرزئی نے کابل میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ربانی کے قتل سے قبل عسکریت پسندوں نے امن کونسل کی قیادت کو امن کے پیغام پر مبنی ایک سی ڈی دی تھی۔ ’’ ہم نے اب دیکھ لیا ہے کہ یہ امن کا پیغام نہیں تھا بلکہ دھوکہ دہی پر مبنی تھا۔‘‘ برہان الدین ربانی ایک با اثر تاجک نژاد سیاستدان تھے، جن کے قتل سے منفی لسانی جذبات کے بھڑکنے کا خدشہ بھی موجود ہے۔ سوویت یونین کے خلاف افغان مزاحمت کے مشہور کردار احمد شاہ مسعود کے بھائی احمد ولی مسعود کا کہنا ہے کہ اگر ربانی مذاکرات کے ذریعے قیام امن میں ناکام رہے تو کوئی بھی یہ کام نہیں کرسکتا۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM