1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ربانی کے قتل میں آئی ایس آئی کے مبینہ کردار پر پاک افغان کشیدگی

پاکستان حکومت نے سابق افغان صدر برہان الدین ربانی کے قتل میں فوج کے جاسوس ادارے انٹر سروسز انٹیلیجنس کے ملوث ہونے سے متعلق کابل حکومت کے الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔

default

پاکستانی وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی جلد افغانستان کا دورہ کریں گے

افغان امن کونسل کے سربراہ برہان الدین ربانی ۲۰ ستمبر کو ایک خودکش حملے میں ہلاک کر دیے گئے تھے۔ افغان صدر حامد کرزئی نے اس دہشت گردی کی تحقیقات کے لیے وزیر دفاع عبد الرحیم وردگ کی قیادت میں تحقیقاتی کمیشن تشکیل دیا تھا۔ اس کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ خودکش حملہ آور کا تعلق پاکستانی شہر چمن سے تھا اور پاکستانی صوبہ بلوچستان کے صدر مقام کوئٹہ میں اس حملے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔ تحقیقاتی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اسلام آباد حکومت کو معاملے سے متعلق ٹھوس ثبوت فراہم کرکے ان سے پس پردہ ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

افغان وزیر داخلہ بسم اللہ محمدی نے بھی سابق صدر ربانی کی ہلاکت میں براہ راست طور پر پاکستانی جاسوس ادارے کو مؤرد الزام ٹہرایا ہے۔ جواب میں پاکستانی دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ پروفیسر ربانی کی ہلاکت میں آئی ایس آئی کو ملوث قرار دینے کے الزامات بے بنیاد ہیں۔ دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں پروفیسر ربانی کو پاکستان کا اچھا دوست اور پاکستان بھر میں قدر کی نگاہ سے دیکھے جانے والے رہنما کے طور پر پیش کیا ہے۔

NO FLASH Burhanuddin Rabbani

کابل میں پاکستانی سفارتخانے کو فراہم کیے گئے ثبوت سے متعلق پاکستانی دفتر خارجہ کے بیان میں لکھا گیا ہے، ’’ افغان وزیر داخلہ کے بیان میں اس بات کی نشاندہی نہیں کی گئی کہ حملہ آور اور اس کے ساتھی طویل عرصے سے کابل اور قندھار میں آزادانہ گھوم پھر رہے تھے، بیان میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ حملہ آور چار دن تک امن کونسل کے مہمان خانے میں قیام پزیر تھا، جس کا انتظام برہان الدین ربانی کے قریبی ساتھی کے ہاتھوں میں تھا، بظاہر (برہان الدین ربانی کے ساتھ) ملاقات سے قبل حملہ آور کی جامعہ تلاشی بھی نہیں لی گئی، یہ حقائق بھی اس اعتراف کا حصہ ہیں، جو افغان انٹیلی جنس ادارے نے کابل میں سفارتخانے (پاکستانی) کے حوالے کیا ہے۔‘‘

پاکستان نے اس بات پر زور دیا ہے کہ کابل میں برسر اقتدار حلقے ان بے بنیاد الزامات کے بجائے اس بات پر سنجیدگی سے غور کریں کہ آخر کیوں پاکستان اور امن کے حامی افغانوں کو منظم انداز میں قتل کیا جا رہا ہے۔ سابق افغان صدر برہان الدین ربانی کے قتل سے قبل بھی متعدد نامور افغان رہنما مختلف انداز میں قتل کیے جا چکے ہیں۔ قتل کی ان وارداتوں اور افغانستان کے مشرقی سرحدی صوبوں میں مبینہ طور پر پاکستان کی جانب سے راکٹ داغنے کے سبب افغانستان میں پاکستان مخالف جذبات بڑھتے جا رہے ہیں۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM