1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’ربانی کے قتل سے جنگی حکمت عملی نہیں بدلے گی‘

امریکی فوجی قیادت نے سابق افغان صدر اور امن کونسل کے سربراہ برہان الدین ربانی کی ہلاکت کو سٹریٹیجک نقطہء نگاہ سے ایک دھچکہ قرار دیتے ہوئے عزم ظاہر کیا ہے کہ اس سے افغان جنگ کی حکمت عملی تبدیل نہیں ہو گی۔

default

امریکی صدر باراک اوباما اور فرانسیسی صدر نکولا سارکوزی سمیت کئی عالمی رہنماؤں نے برہان الدین ربانی کی ہلاکت کی مذمت کی ہے۔ نیویارک میں افغان صدر حامد کرزئی سے ملاقات کے بعد صدر اوباما نے کہا کہ ربانی کی ہلاکت تشدد کا ایک بے حس عمل ہے۔ صدر کرزئی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت سے قبل ہی اپنا دورہ ادھورا چھوڑ کر واپس کابل چلے گئے ہیں۔ کرزئی کے بقول ربانی کے بعد پیدا ہونے والے خلاء کو پر نہیں کیا جا سکے گا۔ پاکستان اور ایران کی جانب سے بھی برہان الدین کی ہلاکت کی مذمت پر مبنی بیان جاری کیے گئے ہیں۔

امریکی وزیر دفاع لیون پنیٹا اور فوج کی مشترکہ کمان کے چیف ایڈ مرل مائیک مولن نے برہان الدین ربانی کے قتل کو طالبان کی پسپائی کی ایک علامت قرار دیا ہے۔ دونوں کے مطابق عسکریت پسند میدان جنگ میں شکست کے بعد چوٹی کے افغان رہنماؤں کو ہدف بناکر قتل کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔

Flash-Galerie Bin Laden Verfolgung Verfolgungsjagd Versteck USA

امریکی وزیر دفاع اور دیگر اعلیٰ عہدیدار ایک سابقہ اجلاس کے موقع پر، فائل فوٹو

واشنگٹن میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کے دوران ایڈ مرل مولن نے کہا، ’’عسکریت پسندوں نے اپنی حکمت عملی تبدیل کر کے ہائی پروفائل حملے شروع کر دیے ہیں، سٹریٹیجک نقطہء نگاہ سے یہ اہم ہے۔‘‘ مولن نے واضح کیا کہ امن کونسل کے سربراہ کی ہلاکت سے افغان جنگ کی حکمت عملی تبدیل نہیں ہو گی۔

وزیر دفاع لیون پنیٹا بھی اسی نیوز کانفرنس میں موجود تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہلاکت کا طریقہء کار بھی باعث تشویش ہے اور امریکی افواج افغان فورسز کے ساتھ مل کر طالبان سے نمٹنے کے لیے کام کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق، ’’ہم اس طرز کے حملوں سے بچاؤ کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں، بنیادی بات یہ ہے کہ ہم اس میں پیشرفت کر رہے ہیں اور اس طرز کے واقعات ہمیں اب تک کی پیشرفت کا سلسلہ جاری رکھنے سے نہیں روک سکتے۔‘‘

Flash-Galerie Burhanuddin Rabbani

مرحوم ربانی افغان امن کونسل کے ایک سابقہ اجلاس کے موقع پر صدر حامد کرزئی کے ہمراہ قیام امن کے لیے دعا کرتے ہوئے

ادھر مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے ہیڈ کوارٹر برسلز سے اعلیٰ کمانڈر ایڈ مرل جیمز سٹاوریدیس کا بھی ایک بیان جاری کیا گیا ہے۔ ایڈ مرل سٹاوریدیس کے بقول، ’’یہ بزدلانہ حملہ محض ایک اور پر تشدد واقعہ ہے اور اس سے مفاہمتی کوششیں نہیں رکیں گی۔‘‘

نیٹو کے سیکرٹری جنرل آندرس فوگ راسموسن کا کہنا ہے کہ افغان عوام کے بہتر اور محفوظ مستقبل کے لیے کندھے سے کندھا ملا کر کام جاری رکھا جائے گا۔ نیٹو کے مطابق افغانستان میں گزشتہ برس ڈھائی ہزار شدت پسند ہتھیار پھینک کر پر امن زندگی بسر کرنے پر تیار ہوئے ہیں۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: امجد علی

DW.COM