1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ربانی کا قتل، پاک افغان تعلقات میں تناؤ بڑھتا ہوا

افغان حکومت کی جانب سے پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی پر سابق افغان صدر برہان الدین ربانی کی ہلاکت میں ملوث ہونے کے الزامات کے بعد دونوں ہمسایہ ممالک کے باہمی تعلقات میں پیدا ہونے والا تناؤ بڑھتا جا رہا ہے۔

default

سابق افغان صدر برہان الدین ربانی

دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے غیر معمولی بیان میں ترجمان نے کہا کہ برہان الدین ربانی کے قتل کے حوالے سے پاکستان کو کابل نے جو نام نہاد ثبوت مہیا کیا ہے، وہ ایک افغان شہری حمیداللہ اخونزادہ کا اعترافی  بیان ہے جس پر متعلقہ حکام نے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ برہان الدین نہ صرف پاکستان کے ایک عظیم دوست تھے اور پورے ملک میں ان کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا بلکہ وہ پاکستان میں طویل عرصے تک قیام پذیر بھی رہے اور ان کے بہت سے دوست بھی تھے۔ خیال رہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات میں موجودہ شدید تناؤ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان اور امریکہ کے درمیان حقانی نیٹ ورک کے معاملے پر پہلے ہی دوطرفہ تعلقات خاصے کشیدہ ہیں۔ خارجہ امور کے ماہر اور سابق سیکرٹری خارجہ تنویر احمد خان کا کہنا ہے کہ خطے کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں پاک افغان اور پاک امریکہ تعلقات میں نشیب و فراز کا سلسلہ جاری رہے گا۔ انہوں نے کہا، ’’ ان کا بڑا اسٹریٹیجک خواب ہے، بھارت کو ابھارنا ہے۔ وہ مکمل نہیں رہا۔ اس کے لیے پاکستان کو غیر جانبدار کرنا، اس کو ایک نئی سمت میں رواں دواں کرنا ،یہ ان کا خواب قائم رہے گا۔ اس میں نشیب و فراز بھی رہیں گے۔  کبھی آپ کی مشکلات کا فائدہ اٹھا کر آپ کی مدد کریں گے تو کبھی ہاتھ کھینچ لیں گے۔ یہ ایک آسان تعلق نظر نہیں آتا۔‘‘

Flash-Galerie Dschalaluddin Haqqani

حقانی نیٹ ورک کے آپریشنل کمانڈر سراج الدین حقانی

ادھر پیر کے روز حقانی نیٹ ورک کے آپریشنل کمانڈر سراج الدین حقانی کی ذرائع ابلاغ سے اس گفتگو کو بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے جس میں انہوں نے ربانی کے قتل میں ملوث ہونے اور اپنے نیٹ ورک کے آئی ایس آئی کے ساتھ کسی بھی تعلق کی تردید کی ہے۔

سراج الدین کا کہنا ہے کہ وہ سوویت جنگ کے وقت بہت سے ممالک کی خفیہ ایجنسیوں سے رابطے میں تھے مگر اب ان کا کسی بھی خفیہ ایجنسی سے رابطہ نہیں۔ دفاعی تجزیہ نگار اور آئی ایس آئی کے صوبہ خیبر پختونخوا کے چیف بریگیڈیئر ریٹائرڈ اسد منیر کا کہنا ہے کہ حقانی کا یہ بیان حقائق کے قریب تر ہے کیونکہ امریکہ کی طرف سے بھی ابھی تک اس بارے میں کوئی ٹھوس شواہد سامنے نہیں آئے۔

NO FLASH Pakistan Außenministerin Hina Rabbani Khar

پاکستانی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر

انہوں نے کہا، ’’یہ دونوں حملے جو ہوئے ہیں، یہ نارتھ وزیرستان سے نہیں کیے گئے۔ وہاں سے جانا مشکل ہے ۔تین چار صوبوں کو پار کرنا پڑتا ہے۔ یہ کابل کے اردگرد کے لوگ ہیں، جنہوں نے یہ کیا ہے۔ حقانی وغیرہ بھی وہاں اتنے طاقتور ہو گئے ہیں ۔انہوں نے بیان دے دیا ہے کہ طالبان اور ہم یعنی حقانی ایک ہیں۔ اگر ان سے بات ہوئی تو ہم سے بھی ہو گی۔ ہم الگ نہیں ہیں۔‘‘

دریں اثناء پاکستان کی جانب سے سراج الدین حقانی کے بیان پر ابھی تک کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا۔

رپورٹ: شکور رحیم، اسلام آباد

ادارت: عصمت جبیں

 

DW.COM