1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

راکھین میں صورتحال کو قابو میں لایا جائے، عالمی سلامتی کونسل

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے میانمارسے مطالبہ کیا ہے کہ راکھین میں حالات کو قابو میں لانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔ تحفظ کی تلاش میں تقریباً پونے چار لاکھ روہنگیا باشندے میانمار سے بنگلہ دیش ہجرت کر چکے ہیں۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے میانمار کی ریاست راکھین میں سلامتی کے ملکی اداروں کی جانب سے انتہائی زیادہ طاقت کے استعمال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ یہ ریاست شناخت سے محروم روہنگیا مسلمانوں کا گھر ہے۔ بند کمرے میں ہونے والے ایک اجلاس کے بعد سلامتی کونسل کے پندرہ ارکان کی جانب سے جاری کردہ ایک متفقہ بیان میں تشدد اور ہنگامہ آرائی کو روکنے کے لیے فوری طور پر اقدامات کا مطالبہ کیا گیا، ’’راکھین میں صورتحال کو قابو میں لایا جائے، قانون کی بالادستی قائم کی جائے اور عام شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔‘‘

اقوام متحدہ کے لیے برطانیہ کے سفیر میتھیو رائےکورٹ نے کہا کہ گزشتہ نو برسوں میں روہنگیا اقلیت  کی صورتحال پر سلامتی کونسل کا یہ پہلا بیان ہے۔ رائے کورٹ اور دیگر کچھ ارکان نے ’’راکھین اور وہاں پر موجود روہنگیا کی ناگفتہ بہ صورتحال‘‘ کے موضوع پر ایک عام اجلاس بلانے کا مطالبہ بھی کیا۔

سلامتی کونسل کا یہ بیان ایک ایسے وقت پر سامنے آیا ہے، جب میانمار کی حکومت بین الاقوامی تنقید کی زد میں ہے۔ گزشتہ ماہ ایک فوجی چوکی پر روہنگیا شدت پسندوں کے حملے کے بعد میانمار کی فوج نے راکھین میں عسکری کارروائی شروع کر دی تھی۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گوٹیرش بھی ینگون حکومت سے فوجی کارروائی کو روکنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ ان کے بقول روہنگیا بحران خطے کو غیر مستحکم کر رہا ہے اور وہاں انسانی بحران کی صورتحال خطرناک تر ہوتی جا رہی ہے۔ گوٹیرش نے اس موقع پر تمام ممالک سے درخواست کی کہ وہ روہنیگا اقلیت کو عام ضروریات زندگی کی فراہمی ممکن بنانے کی ہر ممکن کوشش کریں۔

 

DW.COM