راکھین: تیس سے زائد عسکریت پسند ہلاک کر دینے کا دعوٰی | حالات حاضرہ | DW | 14.11.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

راکھین: تیس سے زائد عسکریت پسند ہلاک کر دینے کا دعوٰی

میانمار کی ریاست راکھین میں گزشتہ اختتام ہفتہ پر تشدد کے نئے واقعات رونما ہوئے۔ ملکی فوج کے مطابق اس شورش زدہ علاقے میں گزشتہ دو دنوں کے دوران تیس سے زائد عسکریت پسندوں کو ہلاک کر دیا گیا۔

شمالی راکھین میں روہنگیہ مسلم برادری کی اکثریت ہے اور یہ علاقہ بنگلہ دیش کی سرحد کے قریب واقع ہے۔ اس علاقے میں گزشتہ مہینے نو پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد سے حکام کی جانب سے کارروائی کی جا رہی ہے اور اس دوران بڑے پیمانے پر چھاپے بھی مارے گئے۔ ملکی فوج پولیس اہلکاروں کے قتل میں ملوث حملہ آوروں کی تلاش میں کئی افراد کو ہلاک کر چکی ہے جبکہ بڑے پیمانے پر گرفتاریاں بھی عمل میں آئی ہیں۔ حکام کو شبہ ہے کہ اس واقعے میں ملوث افراد کا تعلق روہنگیہ مسلم برادری کے ایک شدت پسند گروہ سے ہے، جس کے بیرون ملک مسلم شدت پسند تنظیموں سے رابطے ہیں۔

چند دنوں کی خاموشی کے بعد ہفتے کے روز فوج نے بتایا کہ ایک جھڑپ میں چھ حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا گیا جبکہ اس دوران دو فوجی بھی مارے گئے۔ ایک بیان کے مطابق فوج پر یہ حملہ انتہائی مربوط انداز میں کیا گیا تھا اور فوج جنگی ہیلی کاپٹروں کی مدد سے شدت پسندوں کو پسپا کرنے میں کامیاب ہوئی۔ تاہم اس کے بعد یہ سلسلہ اتوار کے روز بھی جاری رہا۔

 ہفتے کی شب روہنگیہ نسلی اقلیت کی جانب سے ایک ویڈیو بھی جاری کی گئی، جس میں آٹھ افراد کی لاشیں دیکھی جا سکتی ہیں، جن میں سے ایک لاش ایک شیر خوار بچے کی ہے۔ تاہم اس ویڈیو کے اصلی ہونے کی آزاد ذرائع سے تاحال تصدیق نہیں کی جا سکی۔

میانمار میں آباد تقریباً گیارہ لاکھ افراد کا تعلق روہنگیہ مسلم برادری سے ہے۔ تاہم یہ لوگ مقامی شہریت نہ ہونے کی وجہ سے بہت سی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ 2012ء میں بدھ مت کے پیروں کاروں اور روہنگیہ مسلمانوں کے مابین شدید ہنگامہ آرائی شروع ہو گئی تھی اور یہ سلسلہ تب سے وقفے وقفے سے جاری ہے۔

روہنگیہ باشندوں کے خلاف جاری ان کارروائیوں کے دوران میانمار کی فوج پر انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزیوں اور اس برادری کے ساتھ دانستہ شدید بدسلوکی کے الزامات بھی عائد کیے گئے، جس کے بعد میانمار کی حکومت پر بین الاقوامی برادری کی جانب سے شدید دباؤ بھی ڈالا گیا۔ ساتھ ہی فوج کو کنٹرول کرنے کے حوالے سے ملک کی نئی جمہوری حکومت کے اختیارات اور صلاحیت  کے بارے میں سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔