1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

راکٹ تجربے کی مذمت پر شمالی کوریا کا جواب

شمالی کوریا کے حالیہ متنازعہ راکٹ تجربے کی مذمت کرتے ہوئے سلامتی کونسل نے مطالبہ کیا تھا کہ ایسے مزید کوئی تجربے نہ کئے جائیں لیکن اقوام متحدہ کے ساتھ کمیونسٹ کوریا کا تنازعہ منگل کے روز اور بھی پیچیدہ شکل اختیار کر گیا۔

default

شمالی کوریا کے میزائیل پروگرام کے حوالے سے جنوبی کوریا میں سب سے زیادہ تشویش پائی جاتی ہے

اس لئے کہ پیانگ یانگ نے اپنے جوہری پروگرام سے متعلق بین الاقوامی برادری کے ساتھ مذاکرات میں حصہ نہ لینے کے علاوہ اپنی ایٹمی تنصیبات میں پلوٹونیم کی افزودگی دوبارہ شروع کر دینے کا اعلان کردیا ہے۔

Nordkorea Atomprogramm - Verhandlungen in Peking

شمالی کوریا نےاپنے ایٹمی پروگرام سے متعلق چھ ملکی مذاکرات سے علیحدہ ہونے کا اعلان کیا ہے

کچھ عرصہ پہلے تک شمالی کوریا کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل رکن ملکوں اور جرمنی پر مشتمل چھ کے گروپ کے ساتھ بات چیت کا محور یہ تھا کہ پیانگ یانگ کی ایٹمی تنصیبات کو بند کرنے کے بعد انہیں بتدریج ختم کیسے کیا جائے گا۔ پھر اس معاملے میں کمیونسٹ کوریا اور چھ ملکی گروپ کے مابین نہ صرف اختلافات پیدا ہوئے بلکہ وہ اتنے شدید بھی ہو گئے کہ پیانگ یانگ جنوبی کوریا، جاپان، امریکہ اور کئی دوسرے ملکوں کی مسلسل تنبیہات کے باوجود اپنے اس حالیہ متنازعہ راکٹ تجربے سے بھی باز نہ آیا جسے وہ کامیاب قرار دیتا ہے۔

پھر جاپان کی درخواست پر سلامتی کونسل کا ایک ہنگامی اجلاس بلایا گیا اور پہلی مرتبہ کوئی نتیجہ نہ نکلنے کے بعد دوسری نشست میں اس تجربے کی مذمت کی گئی تو شمالی کوریا کی کمیونسٹ قیادت کا لہجہ اور بھی سخت ہو گیا۔ پیانگ یانگ حکومت نے منگل کے روز یہ اعلان کردیا کہ وہ اپنے ایٹمی پروگرام سے متعلق چھ ملکی مذاکرات میں بھی شامل نہیں ہو گی اور عنقریب ہی اپنا وہ ایٹمی ری ایکٹر بھی دوبارہ چلانا شروع کردے گی جس میں مبینہ طور پر ایٹمی ہتھیاروں میں استعمال ہوسکنے والا پلوٹونیم تیار کیا جاسکے گا۔

Nordkorea Raketentest Atomstreit

رواں ماہ شمالی کوریا نے راکٹ تجربہ کیا

خود شمالی کوریا اگرچہ یہ اعتراف نہیں کرتا کہ اس کی ایٹمی تنصیبات میں تیار ہوسکنے والا پلوٹونیم جوہری ہتھیاروں میں استعمال ہو سکنے کے قابل ہوگا تاہم مغربی دنیا کا پیانگ یانگ پر الزام یہی ہے کہ وہ ایسا کرتے ہوئے ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کی اپنی کوششوں کو آگے بڑھانا چاہتا ہے۔

شمالی کوریا کے خلاف اضافی پابندیوں کے حوالے سے اقوام متحدہ میں امریکی سفیر سوزن رائس کہتی ہیں:" ہم نے اس بارے میں ایک امریکی فہرست تو تیار کرلی ہے لیکن اس فہرست میں ترمیم اور اضافے کے لئے امریکہ دوسرے ملکوں کی تجاویز کا بھی خیرمقدم کرے گا۔"

ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ پیانگ یانگ نے اپنے جس تازہ ترین لیکن شدید رد عمل کا اظہار کیا ہے اس کے اسباب کیا ہیں؟ جرمن فاؤنڈیشن برائے سائنس اور سیاست کے شمالی کوریا سے متعلقہ امور کے ماہر ڈاکٹر مارکوس ٹیٹن کہتے ہیں: "شمالی کوریا نے اپنے رد عمل میں اتنی جلد بازی اس لئے کی کہ اس نے شروع سے ہی واضح کردیا تھا کہ اگر اس کے راکٹ تجربے کا معاملہ سلامتی کونسل میں اٹھایا گیا تو وہ اسے اپنے خلاف اعلان جنگ سمجھے گا اور فوری رد عمل کا مظاہرہ کرے گا۔"

ان حالات میں شمالی کوریا کے ایٹمی پروگرام سے متعلق تنازعے کا ممکنہ حل اب اور بھی دور ہو گیا ہے۔