1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

راکٹ تباہ کیا گیا تو اعلان جنگ سمجھا جائے گا : شمالی کوریا

امریکہ اور جنوبی کوریا کی مشترکہ جنگی مشقوں کے رد عمل میں شمالی کوریا نے کہا ہے کہ اس پر جنگ مسلط کی گئی تو وہ اس کا بھرپور جواب دے گا۔

default

شمالی کوریا نے اپنی فواج کو ہائی الرٹ کر دیا ہے

پیانگ یانگ کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس کے مواصلاتی سیٹیلائٹ کو نشانہ بنایا گیا تو اس اقدام کو جنگ کے طور پر دیکھا جائے گا۔

جنوبی کوریا اور امریکہ کی مشترکہ سالانہ جنگی مشقوں کے آغاز سے سیول اور پیانگ یانگ کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ یہ مشقیں شمالی کوریا کی سرحد سے ایک گھنٹے کی مسافت پر ہو رہی ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن پہلے ہی جنوبی کوریا کے اپنے حالیہ دورے کے موقع پر سیول کے لئے واشنگٹن حکومت کی حمایت کا اعلان کر چکی ہیں: "کوئی اور معاملہ ایسا نہیں ہے، جس پر ہم اتنا متحد ہوں، جتنا کہ ہم شمالی کوریا پر ہیں۔"

پیانگ یانگ حکام ان جنگی مشقوں کو اشتعال انگیز اقدام قرار دیتے ہیں جبکہ سرحد کے دونوں جانب ایک ملین فوجی تعینات ہیں۔

1950-53 کے دوران دونوں کوریاؤں کے مابین ہونے والی جنگ کا اختتام امن معاہدے کے بجائے جنگ بندی پر ہوا تھا۔ دونوں ریاستوں کے مابین اس وقت سے کشیدگی چلی آ رہی ہے جس میں اضافہ گزشتہ دنوں اس وقت ہوا جب شمالی کوریا نے ایک مواصلاتی سیٹیلائٹ خلا میں بھیجنے کا اعلان کیا۔ جنوبی کوریا، امریکہ اور جاپان کا موقف ہے کہ پیانگ یانگ سیٹیلائٹ کے نام پر دُور مار میزائل کا تجربہ کرنے والا ہے۔ تاہم شمالی کوریا کا کہنا ہے کہ اس کا مواصلاتی سیٹیلائٹ پرامن مقاصد کے لئے ہے۔ پیانگ یانگ کے فوجی حکام نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس سیٹیلائٹ کو گرانے کے کسی بھی اقدام کو شمالی کوریا کے خلاف جنگ تصور کیا جائے گا۔

دوسری جانب جنوبی کوریا کی وزارت دفاع کے ترجمان کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا محض دھمکیاں دے رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیول کی افواج کسی بھی خطرے سے نمٹنے کو تیار ہیں۔

سول میں موجود شمالی کوریا کے لئے نومنتخب امریکی مندوب اسٹیفن بوس ورتھ کا کہنا ہے کہ واشنگٹن حکومت مذاکرات کے ذریعے تنازعے کا حل چاہتی ہے: "ہم نے میزائل کے تجربے یا سیٹیلائٹ کو خلاء میں بھیجنے سے متعلق پیانگ یانگ کو اپنے مؤقف سے آگاہ کر دیا ہے۔ ہم مذاکرات چاہتے ہیں۔"

پیانگ یانگ نے سیول کے ساتھ فوجی رابطے کے لئے قائم کی گئی ہاٹ لائن بھی بند کر دی ہے۔ یہ ٹیلی فون رابطہ سرحد کے دونوں جانب شہریوں اور سامان کی نقل و حرکت سے متعلق معلومات کے تبادلے کے لئے استعمال کیا جا رہا تھا۔

اُدھر شمالی کوریا کے رہنما کم یونگ ال علیل ہیں اور یہ چہ میگیوئیاں جاری ہیں کہ پیانگ یانگ میں اقتدار کی باگ ڈور کس کے ہاتھ آئے گی۔ تاہم ایسے کوئی اثرات دکھائی نہیں دیتے جن سے یہ خیال کیا جا سکے کہ علیل رہنما اقتدار کی کرسی چھوڑ رہے ہیں۔ اتوار کو شمالی کوریا میں پارلیمانی انتخابات ہوئے اور کم یونگ ال دوبارہ حکمراں منتخب ہو گئے ہیں۔

گزشتہ ہفتے شمالی کوریا نے اعلان کیا تھا کہ وہ اپنی فضائی حدود میں جنوبی کوریا کے مسافر بردار طیاروں کے تحفظ کی ضمانت نہیں دے سکتا جس کے بعد سول کی متعدد فضائی کمپنیوں نے متبادل فضائی راستے اختیار کر لئے تھے۔