1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

راولپنڈی حملےکا اصل ہدف فوجی اہلکار تھے

راولپنڈی میں پریڈ لین میں مسجد پر دہشت گردی کی ہولناک واردات جنرل ہیڈ کوارٹرسے صرف ایک کلو میٹر دور ہوئی۔

default

جنوبی وزیرستان میں عسکریت پسندوں کے خلاف فوجی آپریشن کے بعد سے ایسی کارروائیوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے

یہ علاقہ بھی راولپنڈی کنٹونمنٹ کا حصہ ہے اور جمعے کی نماز کے لئے یہاں سیکیورٹی کے خصوصی انتظامات کئے گئے تھے کیونکہ یہاں پرریٹائرڈ اورحاضرسروس فوجیوں کی بڑی تعداد خاص طور پر نماز جمعہ ادا کرنے آتی ہے۔ اس کارروائی میں حملہ آوروں کی اکثریت سیکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ مقابلے کے نتیجے میں ماری گئی۔ تاہم ان کی صحیح تعداد کے بارے میں تاحال صورتحال واضح نہیں ہو سکی۔

حملے سے قبل حملہ آوروں نے حفاظتی گارڈز کی توجہ ہٹانے کےلئے پہلے ہینڈ گرنیڈ پھینکے اور پھر دیوار پھلانگ کر مسجد میں داخل ہو کر نمازیوں پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ پولیس کے ایک رابطہ افسر اسلم ترین نے واقعہ کے حوالے سے بتایا:

’’ابھی خطبہ ختم ہی ہوا تھا کہ دہشت گرد، مسجد میں داخل ہو گئے اور انہوں نے فائرنگ شروع کر دی اس کے بعد دھماکے کئے اور ہینڈ گرنیڈ پھینکے۔ یہ کارروائی مسجد کے ہال میں ہوئی ہے۔ اس حملے میں انتہائی خطرناک دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا ہے۔‘‘

تازہ ترین حملے سمیت راولپنڈی اوراسلام آباد میں اس سال متعدد خودکش حملے ہوچکے ہیں۔ گزشتہ دو ماہ کے دوران اس نوعیت کا یہ تیسرا واقعہ ہے اور اس کا واضح ہدف حاضر سروس اور ریٹائرڈ فوجی تھے۔ ہلاک شدگان اور زخمیوں کی بڑی تعداد بھی حاضر سروس اور پنشن یافتہ فوجیوں کی ہے۔

غیر مصدقہ اطلاع کے مطابق اس حملے میں ایک کور کمانڈر کا بیٹا، آرمڈ کور کے ایک میجر جنرل اور ریٹائرڈ جنرل محمد یوسف بھی جاں بحق ہوئے، تاہم رات گئے تک حکام ان خبروں کی تصدیق یا تردید نہ کر سکے۔

رپورٹ : امتیاز گل، اسلام آباد

ادارت : عاطف توقیر

Audios and videos on the topic