1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

رانا پلازہ حادثہ: تین برس بعد کیا کوئی چیز تبدیل بھی ہوئی؟

تین برس پہلے بنگلہ دیش میں رانا پلازہ کا حادثہ پیش آیا تھا، جس کے نتیجے میں گیارہ سو سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ تب سے مزدورں کے حقوق اور حفاظتی اقدامات پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔

بنگلہ دیش میں ملبوسات تیار کرنے والی فیکڑیوں پر مشتمل رانا پلازہ میں پیش آنے والے اس واقعے کے بعد فیشن کی دنیا کی عالمی کمپنیوں کا کہنا تھا کہ اس انڈسٹری میں کام کرنے والے مزدورں کے حالات بہتر بنائے جائیں گے اور ان عمارتوں یا فیکڑیوں میں حفاظتی معیارات کو بھی بہتر بنایا جائے، جہاں ملبوسات تیار کیے جاتے ہیں۔ اس حادثے میں گیارہ سو سے زائد افراد کی ہلاکت کے بعد بنگلہ دیش میں سخت قوانین متعارف کروائے گئے تھے لیکن سوال یہ ہے کہ تین برس بعد کیا کچھ تبدیل ہو پایا ہے؟

نیویار ک برنس اسکول اور انسانی حقوق کے حوالے سے کام کرنے والی خاتون سارا لیبوٹس نے بنگلہ دیش میں پیش آنے والے اس حادثے سے متعلق ایک خصوصی رپورٹ شائع کی تھی۔ نیوز ایجنسی روئٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا، ’’ آگ سے حفاظت، عمارتوں کی حفاظت اور مزدوروں کا تحفظ ایسے موضوعات ہیں، جن سے متعلق عملی اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ان کے لیے پیسے ہی نہیں ہیں۔ میرے خیال سے تو کچھ زیادہ تبدیل نہیں ہوا۔‘‘

Bangladesch Arbeiter in der Textilbranche

اندازوں کے مطابق بنگلہ دیش میں تقریباﹰ پانچ ہزار گارمنٹ فیکٹریاں ہیں

یاد رہے کہ رانا پلازہ کے حادثے کا شمار دنیا کے بدترین صنعتی حادثوں میں ہوتا ہے۔ اس آٹھ منزلہ عمارت میں پانچ گارمنٹ فیکڑیاں کام کر رہی تھیں، جو بین الاقوامی برانڈز کے لیے کام کرتی تھیں اور اس عمارت کے منہدم ہونے سے گیارہ سو پینتیس مزدور ہلاک ہو گئے تھے۔

مغرب کے مقابلے میں بنگلہ دیش میں مصنوعات سستے داموں تیار کی جاتی ہیں اور وہاں مزدورں کی تنخواہیں بھی کم ہیں اور یہی وجہ ہے کہ بنگلہ دیش میں ملبوسات کی صنعت کی برآمدات کی سالانہ مالیت پچیس بلین ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔ مجموعی لحاظ سے ساٹھ فیصد ملبوسات یورپ برآمد کیے جاتے ہیں، تئیس فیصد امریکا اور پانچ فیصد کینیڈا برآمد کیے جاتے ہیں۔

بنگلہ دیش میں ملبوسات کی انڈسٹری میں کام کرنے والے مزدور کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 68 ڈالر مقرر ہے جبکہ چین میں یہ کم از کم 280 ڈالر ہے۔ چین اس وقت ملبوسات برآمد کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے۔

قبل ازیں انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے بھی ملبوسات تیار کرنے والی فیکڑیوں میں حالات تبدیل نہ ہونے پر ڈھاکا حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ انسانی حقوق کے اس نگران ادارے کے ایشیائی ڈائریکٹر فل رابرٹسن کے بقول حکومت بالخصوص گارمنٹ فیکٹریوں میں کام کرنے والے مزدوروں کے خلاف ڈھائے جانے والے مظالم کے خاتمے کے لیے مناسب اقدامات نہیں کر رہی ہے۔ انہوں نے ڈھاکہ حکومت اور بین الاقوامی ریٹیلرز پر زور دیا تھا کہ وہ فیکٹری مالکان پر دباؤ بڑھائیں تاکہ مزدوروں کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔

اندازوں کے مطابق بنگلہ دیش میں تقریباﹰ پانچ ہزار گارمنٹ فیکٹریاں ہیں اور ان میں تقریباﹰ چالیس لاکھ افراد ملازم ہیں۔ اندازوں کے مطابق ان پانچ ہزار فیکٹریوں میں سے صرف دس فیصد میں مزدور یونینز موجود ہیں۔