1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

رام دیوتا کا مجسمہ امریکا سے واپس کمبوڈیا پہنچ گیا

ایک امریکی عجائب گھر نے کمبوڈیا کو وہ تاریخی مجسمہ واپس کر دیا ہے جو کئی عشرے پہلے خانہ جنگی کے دوران جنگل میں واقع ایک مندر سے لوٹ لیا گیا تھا۔ یہ مجسمہ ہندوؤں کے دیوتا رام کا ہے۔

اس مجسمے کا دھڑ باسٹھ انچ کا ہے اور اسے انیس سو ستّر میں کوہ کیر کے مندر سے چرا لیا گیا تھا۔ یہ مندر کمبوڈیا کے مشہورِ زمانہ عبادت خانوں پر مبنی انگ کور واٹ کمپلیکس کے مضافات میں واقع ہے۔

ہندوؤں کے دیوتا رام کا یہ مجسمہ امریکا کے مشہور ڈینور آرٹ میوزیم کے پاس تھا اور اسے آج کمبوڈیا کے دارالحکومت پنوم پنہ میں منعقدہ کے ایک تقریب کے دوران واپس کیا گیا۔ کمبوڈیا کی حکومت کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ سن انیس سو چھیاسی سے یہ امریکی میوزیم کے پاس تھا اور ابھی تک اس کا سر، ہاتھ اور ٹانگیں لاپتہ ہیں۔

ماہرین آثار قدیمہ کے مطابق یہ مجسمہ تاریخی نوعیت کا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ چوری کے وقت یا پھر اس کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرتے ہوئے اس کے باقی حصے ٹوٹ گئے ہوں۔ تاہم یہ خدشہ بھی پایا جاتا ہے کہ اس مجسمے کے لاپتہ حصے کسی کی ذاتی ملکیت میں ہوں۔

کمبوڈیا کی حکومت کی جانب سے اپیل کی گئی ہے کہ دنیا بھر میں نوادرات جمع کرنے والے افراد اور عجائب خانے اس روایت پر عمل کریں۔

کمبوڈیا کسی دور میں ہندو اور بدھ تہذیب و تمدن کا مرکز رہا ہے، تاہم وہاں فرانسیسی نوآبادیات اور پھر کئی دہائیوں تک ملک میں جاری رہنے والی خانہ جنگی کی وجہ سے ان ثقافتی ورثوں کو شدید نقصان پہنچا ہے اور ان میں سے بہت سے تاریخی چیزیں چوری ہو چکی ہیں۔

حالیہ کچھ برسوں میں کمبوڈیا کی حکومت نے اپنے ہاں سے چوری ہونے والی نوادرات کی کھوج کا کام جاری کر رکھا ہے اور ان میں سے متعدد نوادرات، جو بآلاخر مغربی عجائب گھروں میں پہنچیں، کو دوبارہ حاصل کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

کئی نوادرات تو کمبوڈیا کو مذاکرات کے ذریعے مل گئیں مگر بعض کے لیے اسے قانونی لڑائیاں بھی لڑنا پڑیں۔

گزشتہ برس کلیولینڈ کے میوزیم آف آرٹ سے بھی ہندو دیوتا ہنومان کا بت کمبوڈیا کو لوٹایا گیا تھا۔ یہ بت بھی رام ہی کے مندر سے چرایا گیا تھا اور کئی افراد سے ہوتا ہوا یہ اس امریکی عجائب گھر تک پہنچا تھا۔