1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

رالف رسل اردو سے محبت کرنے والا شخص

برطانیہ میں بابائے اردو کہلائے جانے والے پروفیسر رالف رسل نوّے برس کی عمر میں وفات پا گئے۔ ماہرِ غالبیات ہونے کے علاوہ رسل کو ایک ایسے غیر ہندوستانی کے طور پر یاد رکھا جائے گا جس نے پوری زندگی اردو کے لیے وقف کردی ہو۔

default

برطانیہ میں بابائے اردو کی حیثیت سے شہرت رکھنے والے ممتاز ماہرِ غالبیات، ماہرِ لسانیات، مترجّم، محقق اور استاد پروفیسر رالف رسل حال ہی میں انتقال کرگئے۔

برصغیرِ پاک و ہند میں ایسے اسکالرز کی کمی نہیں ہے جنہوں نے شیکسپئیر، گوئتھے، یا پھر فرانس کافکا پر تحقیق کی ہو، یا پھر انگریزی، فرانسیسی یا کسی دوسری یورپی ذبان میں بہترین ادب تخلیق کیا ہو، یا پھر یورپی تدریس گاہوں میں یورپی ذبانوں کی خدمت کے لیے اپنی پوری زندگی وقف کردی ہو۔ مگر ایسے افراد یقیناً ناپید ہیں جن کا تعلق برطانیہ، جرمنی یا کسی دوسرے یورپی ملک سے ہو اور انہوں نے اپنی تمام زندگی اردو ذبان اور ادب کے لیے وقف کی ہو۔ جرمنی سے تعلق رکھنے والی این ماری شمیل اور برطانیہ میں بابائے اردو کے نام سے جانے والے پروفیسر رالف رسل ایسے ہی چند یورپی اسکالرز میں سے ہیں۔

حال ہی میں پروفیسر رالف رسل نوّے برس کی عمر میں انتقال کرگئے۔ ہند و پاک کے ادیب پروفیسر رسل سے اس حد تک محبّت کرتے تھے کہ ایسا محسوس ہوا کہ برّ صغیر کا کوئی اپنا ادیب وفات پا گیا ہو۔

سولہ برس کی عمر میں کمیونزم کی جانب راغب ہونے والے پروفیسر رسل کا اردو سے محض پیشہ وارانہ تعلق نہیں تھا بلکہ وہ اردو ذبان سے والہانہ محبّت کرتے تھے۔

پروفیسر رسل نے انیس سو بیالیس سے انیس سو پینتالیس تک برطانوی راج کے تحت ہندوستان میں انڈین آرمی میں خدمات سر انجام دیں اور بعد ازاں نہوں نے لندن یونی ورسٹی کے اسکول آف ایفریکن اینڈ اوریئنٹل اسٹڈیز سے اردو میں ڈگری حاصل کی۔ سنسکرت ذبان بھی ان کے مظامین میں شامل تھی۔ مگر جہاں رالف رسل برطانیہ میں اردو ذبان کے لیے کام کرنے کے حوالے سے جانے جاتے تھے وہاں ان کی سب سے بڑی اور اہم شہرت ماہرِ غالب ہونے کی بھی ہے۔

پروفیسر رالف رسل نے برطانیہ میں اردو ذبان و ادب کی خدمت کا جو بیڑا اٹھایا تھا اسے اسکول آف ایفریکن اینڈ اوریئنٹل اسٹڈیز، سو ایس، کے پروفیسر ڈیوڈ میتھیوس جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ڈیوڈ میتھیوس اردو کے استاد اور محقّق ہونے کے علاوہ اعلیٰ پائے کے مترجّم بھی ہیں۔ ڈیوڈ میتھیوس کا پروفیسر رسل کے بارے میں کہنا ہے کہ ان کا خلا شائد ہی کبھی پر ہو سکے۔

اس کے علاوہ نامور شاعر اور چیئرمین اکادمیہ ادبایات پاکستان افتخار عارف نے رسل صاحب کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے رالف رسل سے زیادہ کسی کو اردو سے محبّت کرتے نہیں دیکھا۔

معروف ترقّی پسند نقّاد ڈاکٹر محمّد علی صدیقی کے مطابق بھی رالف رسل کی کمی اردو ادب میں ہمیشہ محسوس کی جائے گی۔