راشن جمع کرنے کا مشورہ، دہشت گردوں کے مضبوط ہونے پر دیا گیا ہے، فاروق ستار | حالات حاضرہ | DW | 18.02.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

راشن جمع کرنے کا مشورہ، دہشت گردوں کے مضبوط ہونے پر دیا گیا ہے، فاروق ستار

ایم کیو ایم کے ایک سینیئر رہنما فاروق ستار نے کہا ہے کہ کراچی کے شہریوں کو راشن اور ادویات جمع کرنے کا مشورہ اس لیے دیا گیا ہے کہ شہر میں انتہا پسند اور دہشتگرد بہت مضبوط ہو رہے ہیں۔

سندھ کے شہری علاقوں کی نمائندہ تنظیم ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی نے اپنے قائد الطاف حسین کی تقریر کے تناظر میں کراچی کے شہریوں کو آئندہ پندرہ روز لیے راشن اور ادویات ذخیرہ کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ جس سے کراچی میں خوف اور ملک بھر میں سیاسی درجہ حرارت بڑھ گیا۔ خوف زدہ شہریوں میں چہ مگویاں شروع ہوگئیں کہ کیا ہونے والا ہے۔

رینجرز کی جانب سے شہر میں تیزی سے پھیلتی بے چینی پر فوری ردعمل ظاہر کیا گیا۔ رینجرز کے ترجمان نے ایک پریس نوٹ میں بتایا کہ بعض عناصر کی طرف سے شہر میں خوف و ہراس اور سراسیمگی پھیلانے کا سخت نوٹس لیا گیا ہے، قانون نافذ کرنے والے ادارے شہر بھر میں پوری طرح متحرک ہیں اور عوام الناس کی سکیورٹی کویقینی بنانے کے لیے پوری طرح چوکس ہیں۔ اس پریس نوٹ میں عوام سے کہا گیا ہے کہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں پر بھرپور بھروسہ رکھیں اور مشکوک فرد یا سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر رینجرز کو فراہم کریں۔

ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے ڈوئچے ویلے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں کو پریشان کرنے کے لیے یہ بات نہیں کہی گئی بلکہ الطاف حسین نے اڑتیس سالہ سیاسی جدوجہد میں جو بھی پیشگوئی کی ہے وہ سچ ثابت ہوئی ہے اور شہریوں کو راشن اور ادویات جمع کرنے کا مشورہ اس لیے دیا گیا ہے کہ شہر میں انتہا پسند اور دہشتگرد منظم اور مضبوط ہو رہے ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کی چند روز پہلے کراچی میں ہونے والی نیوز کانفرنس کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان خصوصاﹰ کراچی میں القاعدہ بہت تیزی سے متحرک ہو رہی ہے اور اس کا مقامی کالعدم تنظیموں کےساتھ گٹھ جوڑ قائم ہوچکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ الطاف حسین نے داعش کے خطرے سے بھی آگاہ کردیا ہے مگر فی الحال حکومتی سطح پر اس کی بھی تردید کی جارہی ہے۔

قائد الطاف حسین کی تقریر کے بعد کراچی میں خوف اور ملک بھر میں سیاسی درجہ حرارت بڑھ گیا ہے

قائد الطاف حسین کی تقریر کے بعد کراچی میں خوف اور ملک بھر میں سیاسی درجہ حرارت بڑھ گیا ہے

فاروق ستار کا یہ بھی کہنا تھا کہ الطاف حسین کی تقاریر نشر کرنے پر عائد پابندی کے خلاف ایم کیو ایم کی جانب سے آئندہ چار روز علامتی بھوک ہڑتال بھی کی جائے گی بھوک ہڑتالی کیمپ کراچی پریس کلب کے باہر لگایا جائے گا۔

تجزیہ کاروں کی رائے میں ایم کیو ایم کے حالیہ بیانات بے وقت کی راگنی ہیں جو ایم کیو ایم میں پیدا ہونے والی فرسٹریشن کو ظاہر کرتے ہیں۔ معروف تجزیہ کار مظہر عباس کہتے ہیں، ’’ایم کیو ایم سیاسی تنہائی کا شکار دکھائی دے رہی ہے۔ ایک طرف کراچی کے بلدیاتی انتخابات میں کامیابی نے ایم کیو ایم پر ذمہ داریوں کا بوجھ بڑھا دیا ہے تو دوسری طرف کامیابی کے باوجود نہ تو صوبائی اور نہ ہی وفاقی حکومت کی جانب سے کوئی مثبت اشارہ ملا ہے اور میئر کے انتخاب میں بھی تاخیر ہورہی ہے۔ گو الطاف حسین کا پاسپورٹ برطانوی حکومت نے واپس کردیا ہے مگر اس کے ساتھ ہی ان کی وطن واپسی کے مطالبات میں بھی اضافہ ہوگا لیکن الطاف حسین کی پاکستان واپسی موجودہ حالات میں ممکن دکھائی نہیں دیتی۔‘‘

ایم کیو ایم سیاسی لحاظ سے خود کو مستحکم کرنے میں مصروف ہے تو دوسری جانب جرائم پیشہ افراد سے کنارہ کشی بھی اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ اس کی ایک مثال رینجرز کی طرف سے ایسے افراد کی گرفتاریوں پر وہ ردعمل نظر نہ آنا ہے جو جو گزشتہ برس تک دیکھا جاتا تھا۔