1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

راشد لطیف افغان ٹیم کی کوچنگ سے مستعفی

سابق پاکستانی کرکٹ کپتان اور افغان ٹیم کے کوچ راشد لطیف نے افغان ٹیم کی پاکستان کے ہاتھوں شکست کے بعد ٹیم کوچ کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

default

افغانستان کرکٹ ٹیم کو پاکستان کی بی ٹیم نے 3-0 سے شکست دی تھی۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا، ’’میں نے افغان ٹیم کی شکست کے فورا بعد اپنا استعفیٰ پیش کر دیا تھا، جو پیر کو منظور کر لیا گیا۔ اگر میری پوری کوششوں کے باوجود افغان ٹیم اپنے کھیل میں بہتری نہیں لاتی تو میرا اپنے عہدے پر رہنے کا جواز ختم ہو جاتا ہے۔‘‘

42 سالہ راشد لطیف نے گزشتہ برس جولائی میں یہ عہدہ سنبھالا تھا۔ راشد لطیف کی سربراہی میں افغان ٹیم نے گزشتہ برس چین میں ہونے والی ایشینز گیمز میں پاکستان کو سیمی فائنل میں شکست دی تھی۔ افغان ٹیم ایشینز گیمز میں بنگلہ دیش کے ہاتھوں شکست کھانے کے بعد سلور میڈل حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی تھی۔

Cricket Afghanistan vs Pakistan

افغانستان کرکٹ ٹیم کو پاکستان کی بی ٹیم نے 3-0 سے شکست دی تھی۔

راشد لطیف نے ان تمام خبروں کی تردید کی جن میں کہا گیا تھا کہ ٹیم کے کھلاڑیوں اور ان کے درمیان اختلافات جنم لے چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا، ’’میں افغان کھلاڑیوں کے کوچ کے طور پر خوش تھا۔ افغان کھلاڑی بہت جذباتی ہیں لیکن یہ میرے اصولوں کے منافی ہے کہ کام نہ ہو اور میں پھر بھی وہاں موجود رہوں۔‘‘

پاکستان میں کئی کرکٹ تربیتی سینٹروں کے مالک لطیف کا کہنا تھا،’’میں افغان کھلاڑیوں کی عزت کرتا ہوں اور وہ مجھے احترام کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ ہم میں کوئی اختلافات نہیں ہیں۔‘‘

افغان کرکٹ بورڈ ACB کے چیف ایگزیکٹیو نسیم اللہ دانش کا کہنا تھا کہ راشد لطیف کا استعفیٰ قبول کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ہم نے محسوس کیا ہے کہ پاکستان کے ہاتھوں حالیہ شکست نہیں ہونی چاہیے تھی۔ لطیف ہماری توقعات پر پورے نہیں اترے۔ ہمیں اب ان کا کوئی متبادل کوچ تلاش کرنا ہو گا۔‘‘

افغانستان میں کرکٹ کو اس وقت مقبولیت حاصل ہوئی تھی، جب پاکستان میں بسنے والے افغان پناہ گزینوں نے سن 2001 کے بعد دوبارہ افغانستان کا رخ کیا تھا۔

رپورٹ: امتیاز احمد

ادارت: افسر اعوان

DW.COM