1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

راحیل شریف اگلے ہفتے امریکا جائیں گے

پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف اگلے ہفتے امریکا کا دورہ کریں گے۔ عسکری ذرائع نے بتایا ہے کہ اس دوران دیگر دفاعی امور کے علاوہ افغان امن عمل پر بھی بات چیت ہو گی۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل عاصم باجوہ کے حوالے سے لکھا ہے، ’’جنرل راحیل شریف 15 سے 20 نومبر تک امریکا میں ہوں گے۔ اس دوران وہ امریکا کی سیاسی اور فوجی قیادت سے ملاقات کریں گے اور دفاع سے متعلق مختلف موضوعات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا‘‘۔ ابھی حال ہی میں وزیراعظم نواز شریف بھی امریکا کے دورے پر تھے تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ واشنگٹن حکام پاکستانی فوج سے براہ راست معاملات طے کرنا چاہتے ہیں کیوں کہ پاکستانی فوج ہی ملک کی دفاعی حکمت عملی طے کرتی ہے۔

دفاعی امور کے ایک ماہر نے اے ایف پی کو بتایا کہ راحیل شریف کے امریکا میں قیام کے دوران شمالی پاکستان میں جاری فوجی آپریشن کے علاوہ پاکستان اور افغانستان کے مابین مصالحتی عمل کا موضوع بھی زیر بحث آئے گا۔ امریکا کی نظر میں پاکستان افغان طالبان پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کر سکتا ہے اور طالبان کے امیر ملا منصور اختر کے اسلام آباد سے قریبی روابط بھی ہیں۔

Raheel Sharif und Premierminister Nawaz Sharif

ابھی حال ہی میں وزیراعظم نواز شریف بھی امریکا کے دورے پر تھے

تاہم دوسری جانب واشنگٹن انتظامیہ میں شامل کچھ حلقوں کا خیال ہے کہ طالبان کو تشدد سے روکنے کے لیے پاکستان دیانت داری سے کام نہیں لے رہا۔ رواں برس جولائی میں پاکستان نے کابل حکومت اور طالبان کے مابین پہلے امن مذاکرات کا انعقاد کرایا تھا تاہم اس بات چیت کا دوسرا دور طالبان کے سابق رہنما ملا عمر کی ہلاکت کے اعلان کی وجہ سے منقعد ہی نہیں ہو سکا۔

جنرل راحیل شریف نے گزشتہ برس امریکا کا دورہ کیا تھا، جہاں انہوں نے وزیر خارجہ جان کیری سے ملاقات کی تھی۔ پاکستان اور امریکا کے باہمی تعلقات گزشتہ چند برسوں کے دوران مستقل اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں۔ تاہم دو سال قبل نواز شریف کے اقتدار میں آنے کے بعد سے ان روابط کو پہلےکی طرح استوار کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔