1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

راحت فتح علی خان کی بھارت میں حراست، پاکستانی حلقوں کا احتجاج

اتوار کی شب راحت فتح علی خان کو نئی دہلی ایئرپورٹ پر مقررہ حد سے زائد غیر ملکی کرنسی رکھنے پر بھارتی حکام کی طرف سے تحویل میں لے لیا گیا تھا۔جن کی رہائی کے لیے پاکستانی حکام کوشش میں مصروف ہیں۔

default

پاکستان نے بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ نامور پاکستانی گلوکار راحت فتح علی خان کی حفاظتی تحویل ختم کرے۔ پاکستانی سیکرٹری خارجہ نے اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمشنر سے بات کرتے ہوئے راحت فتح علی خان کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ دوسری جانب راحت فتح علی خان کے مداحوں نے پاکستان کے مختلف شہروں میں ان کے حق میں مظاہرے کیے ہیں۔ پاکستانی فنکاروں کا اپنے ردعمل میں کہنا ہے کہ فنکار امن کا سفیر ہوتا ہے اور بھارتی حکام کو چاہیے کہ وہ جذبہ خیر سگالی کے تحت راحت فتح علی خان کو فوراً رہا کر دیں۔

Rahat Fateh Ali Khan

راحت فتح علی پاکستان کے علاوہ بھارت میں بھی نہایت مقبول گلوکار ہیں

پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان عبدالباسط نے کہا ہے کہ راحت فتح علی خان کیساتھ بھارت میں پیش نے والا واقع کسی غلط فہمی کا نتیجہ ہے اور دفتر خارجہ اس تمام معاملے کا بغور جائزہ لے رہی ہے اور ان کی اطلاعات کے مطابق راحت فتح علی خان کو گرفتار نہیں کیا گیا۔ عبدالباسط کا کہنا تھا کہ اس واقعے سے دونوں ملکوں کے تعلقات پر اثر نہیں پڑے گا۔

وزیر داخلہ رحمان ملک نے بھی نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمشنر شاہد ملک سے رابطہ کرکے انہیں راحت فتح علی خان کی جلد رہائی کو یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔ ادھر پاکستانی گلوکار علی عظمت نے کہا ہے کہ راحت فتح علی خان پاکستانیوں کے لیے روا رکھے گئے خصوصی بھارتی رویے کی بھینٹ چڑھے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات سب کو معلوم ہے کہ اگر ایک فنکار دوسرے ملک جا کر فن کا مظاہرہ کرے تو اسے اس کا معاوضہ ملتا ہے اس لیے راحت فتح علی خان کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا، لیکن انہیں ایئر پورٹ پر دھر لیا گیا۔ علی عظمت کے مطابق پاکستان اور بھارت کے درمیان قوانین نرم کیے بغیر ثقافتی طائفوں اور فنکاروں کا تبادلہ بے معنی ہے۔

Nusrat Fateh Ali Khan

راحت فتح علی،پاکستان کے مشہور ترین قوال استاد نصرت فتح علی خان کے جانشین بھی ہیں

فلمی اداکارہ ریشم نے کہا ہے کہ راحت فتح علی خان بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی پہچان ہیں اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بھارت میں ان کو ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت تحویل میں لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کی جانب سے امن کی باتیں کرنے کے باوجود آپس کی دوریاں ختم نہیں ہوئیں۔

دوسری جانب پاکستان کے سابق سفارتکارمہدی مسعود کا کہنا ہے کہ یہ بات قابل تعجب ہے کہ بھارت پاکستانی فنکار کو اپنے سفارتخانے کے لوگوں سے کیوں ملنے نہیں دے رہا، حالانکہ قونصلر تک رسائی ان کا بنیادی حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں گرفتار امریکی اہلکار ریمنڈ ڈیوس پر دو پاکستانیوں کو قتل کرنے کا الزام ہے لیکن اس کے باوجود اسے امریکی سفارتکاروں سے ملنے کی مکمل آزادی ہے۔ مہدی مسعودکے مطابق اس موقع پر پاکستان اور بھارت کو چاہیے کہ وہ راحت فتح علی خان کے معاملے کو انتہائی احتیاط سے ہینڈل کریں اور کسی بھی بدمزگی سے بچا جائے کیونکہ طویل ناراضگیوں کے بعد چند روز قبل ہی دونوں ممالک نے ایک بار پھر مذاکرات شروع کرنے پر اتفاق کیا تھا جسے برقرار رہنا چاہیے۔

رپورٹ: شکور رحیم، اسلام آباد

ادارت: افسراعوان

DW.COM