1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

راحت فتح علی خان، نئی دہلی میں زیر حراست

معروف پاکستانی گلوکار راحت فتح علی خان کو بھارتی دارالحکومت نئی دہلی کے ہوائی اڈے سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق وہ حکام کو بتائے بغیر ایک لاکھ چوبیس ہزار امریکی ڈالر کی خطیر رقم کے ساتھ سفر کر رہے تھے۔

default

راحت فتح علی خان

خبر رساں ادارے پی ٹی آئی اور مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق راحت فتح علی خان اپنے دو ایونٹ مینیجرز کے ہمراہ دبئی جا رہے تھے کہ اندرا گاندھی ہوائی اڈے پر ریونیو انٹیلی جنس اہلکاروں نے انہیں حراست میں لے لیا۔

بتایا گیا ہے کہ راحت فتح علی خان نے بھارتی حکام کو یہ خبر نہیں دی تھی کہ وہ اتنی بڑی رقم کے ساتھ سفر کر رہے ہیں۔ پاکستانی ذرائع ابلاغ کے مطابق راحت فتح علی خان کو اس وقت ایک گیسٹ ہاؤس میں زیر حراست رکھا گیا ہے اور انہیں آج پیر کو ایک عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

نئی دہلی سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق راحت فتح علی خان کے بقول انہیں یہ رقم ایک بھارتی نجی کمپنی کے ایک عہدیدار نے دی تھی تاہم انہیں علم نہیں تھا کہ بھارت میں ایسا کوئی قانون بھی ہے، جس کے تحت انہیں اس بارے میں کسٹمز حکام کو خود ہی بتا دینا چاہیے تھا۔

Rahat Fateh Ali Khan

راحت فتح علی خان نئی دہلی میں اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہوئے

بھارتی حکام کے مطابق راحت فتح علی خان براستہ دبئی لاہور جا رہے تھے کہ ڈیپارچر لاؤنج میں چھاپہ مار کر انہیں گرفتار کیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق کسٹمز حکام ان سے پوچھ گچھ کر رہے ہیں۔ خبر ایجنسی پی ٹی آئی نے بھارتی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ کسٹمز حکام کو پہلے ہی سے معلوم تھا کہ راحت فتح علی خان اتنی بڑی رقم کے ساتھ سفر کر رہے ہیں۔

بھارت میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے والے اس معروف فنکار کے بارے میں ایسی خبروں کے بعد پاکستانی حکام نے بھارتی ہائی کمیشن سے رابطہ کیا ہے۔ پاکستانی میڈیا کے مطابق وزیر داخلہ رحمان ملک نے بھارت میں تعینات پاکستانی سفیر شاہد ملک کو خصوصی ہدایات دی ہیں کہ وہ اس معاملے پر بھرپور توجہ دیں۔

خیال رہے کہ ابھی حال ہی میں بھارتی حکام نے پاکستانی گلوکارعدنان سمیع کے خلاف بھی ایسی ہی کارروائی کی تھی۔ وہ بھی غیر ملکی کرنسی سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی کےمرتکب پائے گئے تھے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: مقبول ملک

DW.COM