1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

راحت فتح علی خان ’فی الحال رہا‘

پاکستانی موسیقار راحت فتح علی خان کو ابتدائی تقتیش کے بعد رہا کر دیا گیا ہے۔ انہیں اتوار کو بھارت میں غیر ملکی کرنسی رکھنے سے متعلق قانون کی خلاف ورزی کے جرم میں نئی دہلی کے ہوائی اڈے سے گرفتار کیا گیا تھا۔

default

بھارتی حکام نے بتایا ہے کہ راحت فتح علی خان سے ابتدائی تفتیش مکمل کر لی گئی ہے۔ مزید یہ کہ فی الحال ان کا پاسپورٹ حکام کی تحویل میں رہے گا۔ بھارتی ریونیو انٹیلیجنس حکام کے بقول راحت فتح علی خان تفتیشی عمل مکمل ہونے تک بھارت میں ہی رہیں گے۔ ساتھ ہی ان کے دونوں مینجرز کو بھی رہا کر دیا گیا ہے۔

37 سالہ راحت دبئی کے راستے لاہور آ رہے تھے کہ دہلی کے اندرا گاندھی ہوائی اڈے پر چیکنگ کے دوران ان کے پاس سے تقریباً سوا لاکھ امریکی ڈالر برآمد ہوئے تھے۔ راحت فتح علی خان نے تقریباً چوبیس گھنٹے طویل پوچھ گچھ میں حکام پر واضح کیا ہے کہ وہ دو ہفتوں سے بھارت میں تھے اور اس دوران انہوں نے کئی محفلوں میں اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ ان سے برآمد ہونے والی رقم اسی کا ایک حصہ ہے۔

Rahat Fateh Ali Khan

بھارتی حکام کے بقول ابھی تک راحت فتح علی خان پر کوئی مقدمہ قائم نہیں کیا گیا ہے

بھارتی قوانین کے مطابق کوئی بھی شخص زیادہ سے زیادہ پانچ ہزار ڈالر نقد اور پانچ ہزار ٹریولرز چیک کی صورت میں بھارت میں لا سکتا ہے یا اسے اتنی ہی رقم ساتھ لے جانے کی اجازت ہے۔ اگر کسی شخص کے پاس اس سے زیادہ رقم ہو تو کسٹم حکام کو آگاہ کرنا لازمی ہے۔

راحت فتح علی اور ان کی ٹیم پر الزام ہے کہ انہوں نے دس ہزار ڈالر سے زیادہ نقد رقم ہونے باوجود کسٹم حکام سے رابطہ نہیں کیا۔ ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں کے مطابق بھارتی ریونیو انٹیلیجنس حکام کو پہلے سے اس بات کی اطلاع تھی کہ راحت اور ان کی ٹیم کے پاس اتنی بڑی رقم ہے۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق پاکستانی ہائی کمیشن کی براہ راست مداخلت کے بعد ہی راحت فتح علی خان کی رہائی ممکن ہو سکی ہے۔ مزید یہ پاکستانی حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ راحت اس سلسلے میں ہر ممکن تعاون کریں گے۔ اتوار کے روز ہی پاکستانی وزیر داخلہ رحمان ملک نے بھارت میں پاکستانی ہائی کمشنر شاہد ملک سے رابطہ کر کے اس معاملے کی مکمل تفصیلات طلب کی تھیں۔

بھارتی حکام نے مزید بتایا ہے کہ ابھی تک راحت فتح علی خان پر کوئی مقدمہ قائم نہیں کیا گیا ہے اور انہیں سترہ فروری کو دوبارہ طلب کیا گیا ہے۔

رپورٹ: عدنان اسحاق

ادارت : شادی خان سیف

DW.COM

ویب لنکس