1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

راج ناتھ سنگھ کا استقبال احتجاجی مظاہروں سے

بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کی سارک وزارتی کانفرنس کے لیے پاکستان آمد پر آج بدھ کے روز جماعت الدعوة اور حزب المجاہدین سمیت کئی کشمیری جہادی اور پاکستانی تنظیموں کی طرف سے ملک کے کئی حصوں میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔

Indien Rajnath Singh

بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ

بھارتی وزیر داخلہ سارک ممالک کے وزرائے داخلہ کی ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے آج اسلام آباد پہنچے۔ یہ کانفرنس کل جمعرات کو شروع ہوگی جب کہ خطے کے ممالک کے داخلہ سیکرٹریوں کا ایک اجلاس آج بدھ کو پاکستانی دارالحکومت میں منعقد ہوا۔

راج ناتھ سنگھ کی آمد پر مختلف جہادی تنظیموں نے لیاقت باغ، فیض آباد، سیکٹر ایف ٹین، سیکٹر جی الیون اور سیکٹر آئی ایٹ سمیت راولپنڈی اور اسلام آباد کے جڑواں شہروں کے کئی علاقوں میں مظاہرے کیے۔ اس موقع پر مظاہرین نے راج ناتھ سنگھ اور بھارت کے خلاف نعرے بھی لگائے۔ مظاہرین مختلف بینرز بھی اٹھائے ہوئے تھے، جن پر ’ ہزاروں کشمیریوں کا قاتل، راج ناتھ سنگھ‘ جیسے نعرے درج تھے۔

اس موقع پر ڈوئچے ویلے سے بات چیت کرتے ہوئے حزب المجاہدین کے سپریم کمانڈر سید صلاح الدین نے کہا، ’’حکومت پاکستان نے بھارتی وزیر داخلہ کو دعوت دے کر کشمیریوں کے زخموں پر نمک چھڑکا ہے۔ ہم نے پاکستانی وزارت خارجہ کے متعلقہ حکام سے درخواست کی تھی کہ وہ بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کو دعوت نہ دیں۔ لیکن حکومت نے ہماری ایک نہ سنی۔ راج ناتھ سنگھ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں ہونے والے مظالم کے ذمہ دار ہیں۔ ایسے شخص کو دعوت دینے کا کوئی جواز نہیں تھا۔‘‘

ایک سوال کے جواب میں حزب المجاہدین کے رہنما نے کہا، ’’ہم پاکستان کی کشمیر پالیسی سے مطمئن نہیں ہیں۔ کشمیر میں ظلم وستم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں۔ ڈیڑھ سو کے قریب لوگ اپنی بینائی کھو چکے ہیں۔ چھ سو کے قریب معذور ہوچکے ہیں۔ سات لاکھ سے زائد بھارتی فوجیوں نے کرفیو لگا کر کشمیریوں کو فاقہ کشی پر مجبور کر دیا ہے۔ کشمیر میں خوراک، ادویات اور دیگر ضروری اشیاء کی شدید قلت ہے۔ حکومت پاکستان کو چاہیے تھا کہ وہ بین الاقوامی برادری کو اس مسئلے پر متحرک کرتی لیکن ایسا نہیں کیا گیا،‘‘

Chaudhry Nisar Ali Khan

پاکستانی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان

بھارتی وزیر داخلہ کی آمد پر جماعت الدعوة نے بھی پاکستان اور اس کے زیر انتظام کشمیر میں کئی مقامات پر احتجاجی مظاہروں کا اہتمام کیا۔ اس تنظیم کے ایک مرکزی رہنما احمد ندیم نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’جماعت الدعوة کے زیر انتظام لاہور، کراچی، پشاور، مظفر آباد اور اسلام آباد سمیت پاکستان اور پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر کے کئی مقامات پر احتجاجی مظاہرے کیے گئے ہیں۔ ان مظاہروں کا مقصد بھارت کو یہ بتانا ہے کہ کشمیری تنہا نہیں ہیں بلکہ پاکستان کے مسلمان بھی ان کے ساتھ ہیں۔‘‘

پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور کے مال روڈ پر بھی آج جماعت الدعوة کے زیر اہتمام ایک بڑے اجتماع کا انعقاد کیا گیا، جس سے خطاب کرتے ہوئے حافظ سعید نے ’بھارتی مظالم‘ کی مذمت کی اور راج ناتھ سنگھ کی آمد کو ہدف تنقید بنایا۔ اس موقع پر پرجوش اور جذباتی نعرے بھی لگائے گئے۔

دوسری طرف ان مظاہرین کی جذباتیت سے دور سارک ممالک کے داخلہ امور کے سیکرٹری اور دیگر حکومتی اہلکار اسلام آباد کے ایک فائیو اسٹار ہوٹل میں خطے کے ممالک کے درمیان سلامتی سمیت کئی امور پر تبادلہ خیال کرتے رہے، جس دوران باہمی تعاون اور اشتراک عمل کے نئے راستے تلاش کرنے کے امکانات بھی موضوع بحث رہے۔

بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق آج پاکستان آمد سے پہلے بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں کہا تھا، ’’میں سارک ممالک کے وزرائے داخلہ کی کانفرنس میں شرکت کے لیے اسلام آباد جا رہا ہوں۔ یہ کانفرنس سلامتی سے متعلقہ امور پر بات چیت کا ایک پلیٹ فارم ہے۔‘‘

Pakistan - Proteste gegen Indien

راج ناتھ سنگھ کی پاکستان آمد پر کئی پاکستانی شہروں میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی صورت حال کے حوالے سے احتجاجی مظاہرے کیے گئے

سیاسی ماہرین کے مطابق راج ناتھ سنگھ کا یہ دورہ ایک ایسے وقت پر عمل میں آ رہا ہے، جب پاکستان میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی صورت حال پر بہت غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ عام شہری بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں سکیورٹی دستوں کی کارروائیوں پر سیخ پا ہیں اور ملک کے طول و عرض میں مذہبی سیاسی جماعتیں اس مسئلے کو اجاگر کرنے کے لیے ریلیاں نکال رہی ہیں، جن میں بھارتی سکیورٹی فورسز کی مذمت کی جا رہی ہے۔

پاکستان اور بھارت کی طرف سے اس کانفرنس کے موقع پر کوئی خاص گرم جوشی نہیں دکھائی گئی۔ بھارت نے گزشتہ جمعے کے روز ہی یہ واضح کر دیا تھا کہ راج ناتھ سنگھ اپنے پاکستانی ہم منصب سے کوئی دوطرفہ ملاقات نہیں کریں گے۔ اس پر پاکستانی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے بھی راج ناتھ سنگھ سے ملاقات کی کوئی خواہش ظاہر نہیں کی۔

DW.COM