1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

راجہ جہانگیر اختر، پاکستان کے انا ہزارے

بھارتی سماجی رہنما انا ہزارے کی طرح پاکستان میں کرپشن کے خلاف جدوجہد کرنے والے 68 سالہ تاجر راجہ جہانگیر اختر کی تادم مرگ بھوک ہڑتال جاری ہے۔ وہ پارلیمان سے انسداد بدعنوانی کے خلاف ایک مؤثر بل منظور کروانا چاہتے ہیں۔

راجہ جہانگیر اختر

راجہ جہانگیر اختر

جہانگیر اختر اسلام آباد کی سپر مارکیٹ میں ایک فوٹو سٹوڈیو کے مالک ہیں۔ وہ اس سے قبل بھی پاکستان کو سکیورٹی اسٹیٹ کی بجائے ایک فلاحی ریاست بنانے کے لیے آواز بلند کرتے رہے ہیں۔ اب پڑوسی ملک بھارت میں بدعنوانی کے خلاف انا ہزارے کی تحریک سے متاثر ہو کر انہوں نے بھی بھوک ہڑتال کا انتہائی قدم اٹھایا ہے۔

’’میں مر گیا تو اراکین پارلیمان میری موت کے ذمہ دار ہوں گے‘‘

’’میں مر گیا تو اراکین پارلیمان میری موت کے ذمہ دار ہوں گے‘‘

وفاقی دارالحکومت کے سیکٹر ایف سکس میں نیشنل پریس کلب کے نزدیک بھوک ہڑتالی کیمپ میں بیٹھے راجہ جہانگیر کا کہنا ہے کہ وہ اس سے قبل بھی چھوٹے موٹے ایشوز پر بھوک ہڑتالیں کرتے رہے ہیں اور انتظامیہ کی جانب سے مطالبات پورے ہونے پر اپنی ہڑتال ختم کر دیتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس مرتبہ وہ ایک ایسا مطالبہ کر رہے ہیں جو لوگوں کے دلوں میں تو ہے لیکن وہ اسے زبان پر نہیں لا رہے۔

بقول جہانگیر اختر کے اگر لوگ کرپشن کے خلاف مطالبہ اپنی زبان پر نہ لائے تو ممکن ہے کہ اُن کی جان چلی جائے۔ ابھی تک کسی رکن پارلیمنٹ کی جانب سے ان سے رابطہ کیے جانے کے بارے میں سوال پر جہانگیر اختر نے کہا، ’نہ صرف حکومتی بلکہ اپوزیشن کے بھی کسی رکن نے میرا پتہ نہیں کیا۔ ماسوائے ایک عمران خان کے، جو کل آئے تھے۔ لیکن جو منتخب نمائندے ہیں، ابھی تک میرے پاس نہیں آئے اور لگتا ہے کہ شاید وہ اس وقت آئیں گے، جب یہ ثابت ہونا شروع ہو جائے کہ اب یہ زندہ رہے گا کہ نہیں لیکن اگر میں مر گیا تو یہ لوگ میری موت کے ذمہ دار ہوں گے‘۔

’’پارلیمان سے انسداد بدعنوانی کے خلاف ایک مؤثر بل منظور ہونے تک بھوک ہڑتال جاری رکھوں گا‘‘

’’پارلیمان سے انسداد بدعنوانی کے خلاف ایک مؤثر بل منظور ہونے تک بھوک ہڑتال جاری رکھوں گا‘‘

جہانگیر اختر کے ساتھ ملاقات کے لیے آنے والے اسلام آباد کی سول سوسائٹی کے ایک فعال رکن جمیل عباسی نے کہا کہ وہ اظہار یکجہتی کے لیے آئے ہیں تاہم سول سوسائٹی کی جانب سے جہانگیر اختر کی تحریک میں حصہ نہ لینے کے بارے میں ایک سوال پر جمیل عباسی نے کہا کہ ’جہانگیر صاحب کا تعلق حکمران جماعت پیپلز پارٹی کے ساتھ ہے، جس کے سربراہ آصف علی زرداری صاحب ہیں اور وہ کرپشن کی علامت ہیں۔ اس زاویے سے ہمیں دیکھنا پڑے گا کہ سول سوسائٹی کو کہیں اس حوالے سے نتھی نہ کر لیا جائے۔ تو ہم جہانگیر صاحب سے بھی درخواست کریں گے کہ پہلے پارٹی کے اندر کرپٹ عناصر کے خلاف آواز اٹھائیں‘۔

جہانگیر اختر اس اعتراض کا جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ انہیں پیپلز پارٹی سے اپنی وابستگی پر فخر ہے اور یہ بات ان کے لیے اور بھی بڑا اعزاز ہے کہ حکمران جماعت کے ایک ادنیٰ کارکن ہوتے ہوئے بھی وہ کرپشن کے خلاف ہر فورم پر آواز اٹھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی بنیاد بھٹو خاندان نے رکھی اور اس کے لیے جان کی قربانیاں بھی دیں۔ جہانگیر اختر نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ وہ پارٹی وابستگی سے بالاتر ہو کر کرپشن کے خلاف اپنا مشن جاری رکھیں گے۔

رپورٹ: شکور رحیم، اسلام آباد

ادارت: امجد علی

DW.COM

ویب لنکس