1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

راجر فیڈرر حریفوں کے لئے اب بھی مشکل ہدف

راجر فیڈرر نے اگرچہ گزشتہ کچھ عرصے میں کئی میچوں میں شکست کھائی ہے تاہم حریفوں کی نظر میں انہیں مات دینا اب بھی ایک مشکل ہدف ہے۔

default

راجر فیڈرر گزشتہ کچھ عرصے سے پے در پے شکست سے دوچار ہیں

عالمی نمبر دو سوئس کھلاڑی راجر فیڈرر اس سال ٹینس کا کوئی ایک بھی اعزاز حاصل نہیں کر پائے بلکہ فیڈررحال ہی میں میامی میں ہونے والے ماسٹرز ٹورنامنٹ کے فائنل تک رسائی میں بھی ناکام رہے ہیں۔

Olympia, Tennis Olympiasieger Rafael Nadal

سال کے پہلے گرینڈ سلیم میں رافائل نادال نے فیڈرر کو ٹورنامنٹ کے فائنل میں شکست دے دی تھی

راجر فیڈرر کے سب سے اہم حریف عالمی نمبر ایک ہسپانوی کھلاڑی رافائل نادال کا کہنا ہے کہ وہ اس سال ایک گرینڈ سلیم کے فائنل اور دو ماسٹرز ٹورنامنٹوں کے سیمی فائنل مقابلوں تک رسائی میں کامیاب بہرحال ہوئے ہیں لہذا یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ان کا کھیل روبہ زوال ہے یا وہ ایک آسان حریف ہیں۔

سربیا سے تعلق رکھنے والے عالمی نمبر تین کھلاڑی نوواک ڈوکووچ کا کہنا ہے کہ راجر فیڈرر چار سال سے مسلسل جیت رہے ہیں اور اب اگر انہیں چند مقابلوں میں ناکامی ہوئی ہے تو اس کا مطلب ہر گز نہیں کہ وہ کسی طرح کی مشکلات کا شکار ہیں۔

’’میرے لئے یہ کوئی اچھوتی بات نہیں کہ وہ میامی ٹینس ٹورنامنٹ میں ہار گئے۔ وہ ہمیشہ پر سکون رہ کر کھیلتے ہیں۔ کارکردگی تب خراب ہوتی ہے جب آپ کورٹ میں پریشان دکھائی دیں۔‘‘

Tennisspieler Novak Djokovic Serbien

عالمی نمبر تین نوواک ڈوکووچ نے میامی میں کھیلے جانے والے ماسٹرز ٹینس ٹورنامنت کے سیمی فائنل میں فیڈرر کو ہر دیا تھا

27 سال فیڈرر اب تک 13 گرینڈ سلیم ٹائٹل جیت چکے ہیں۔ تاہم پچھلے برس پانچ میں سے وہ صرف ایک گرینڈ سلیم ہی اپنے نام کر پائے۔ گزشتہ برس اگست میں ہسپانوی کھلاڑی رافائل نادال نے راجر فیڈرر سے عالمی نمبر ایک پوزیشن چھین لی تھی اور فیڈرر تب سے اب تک اسے دوبارہ حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

رواں سال کے آغاز میں آسٹریلیا میں کھیلے جانے والے سال کے پہلے گرینڈ سلیم کے فائنل میں رافائل نادال کے ہاتھوں شکست کے بعد وہ اپنے آنسوؤں کو روکنے میں ناکام ہو گئے تھے۔ اس کے بعد ناقدین کی جانب سے ایسی آراء بھی سامنے آنا شروع ہوگئیں کہ فیڈرر کا کھیل اب زوال کا شکار ہے۔

فرانس کے Gilles Simon نے گزشتہ دو مقابلوں میں مسلسل فیڈرر کو شکست دی ہے تاہم وہ بھی نادال اور ڈوکووچ کی رائے سے اتفاق کرتے ہوئے کہتے ہیں ’’میری نظر میں وہ جیت صرف میرا اچھا دن تھی۔ مگر فیڈرر اب بھی دنیا کے بہترین کھلاڑی ہیں۔‘‘

اسپین کے تیزی سے ابھرتے ہوئے کھلاڑی Fernando Verdasco کا کہنا ہے کہ فیڈرر نفسیاتی الجھن کا شکار ہیں۔

’’دو سال پہلے وہ ہر میچ جیت رہے تھے۔ اس سال کے آغاز پر پہلے نادال نے، پھر ڈوکووچ نے اور پھر مرے نے انہیں شکست دی۔ ان کے لئے یقینا یہ تسلیم کرنا کچھ اتنا آسان نہیں ہے۔‘‘