1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

راتکو ملاڈچ کے حق میں بلغراد میں مظاہرہ

دی ہیگ کی عدالت نے اس ملزم کا برسوں تک انتظار کیا۔ اب سابق یوگوسلاویہ میں جنگی جرائم سے متعلق سماعت کرنے والی اس عدالت میں بوسنیائی سرب فوج کے سابق سربراہ راتکو ملاڈچ کے خلاف کئی الزامات کے تحت سماعت کی جائے گی۔

default

راتکو ملاڈچ

ان الزامات میں سن 1995 میں سریبرینتسا کا وہ قتل عام بھی شامل ہے، جس میں زیادہ تر مسلمان مردوں پر مشتمل، آٹھ ہزار افراد کو قتل کر دیا گیا تھا۔ راتکو ملاڈچ کے ملک بدری کے بعد دی ہیگ کی عدالت کے حوالے کیے جانے کا فیصلہ بلغراد کی ایک عدالت نے کیا۔

لیکن ملاڈچ کے وکلاء نے کہا ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے جبکہ سرب عوام کے ایک چھوٹے سے حصے میں بھی ملاڈچ کے حق میں کچھ تائید و حمایت پائی جاتی ہے۔ ایسے عناصر کے نزدیک راتکو ملاڈچ کوئی مجرم نہیں بلکہ ایک ہیرو ہے۔

Ratko Mladic Gericht Belgrad

چھبیس مئی کو راتکو ملاڈچ کو بلغراد کی ایک عدالت میں لے جاتے ہوئے، فائل فوٹو

ایسے لوگ واقعی موجود ہیں، جوراتکو ملاڈچ کو ایک ہیرو قرار دیتے ہیں اور اس کے حق میں نعرے لگاتے ہیں۔ انہی میں سے قریب ایک ہزار ایسے مظاہرین بھی تھے، جنہوں نے سربیا کی ایک انتہا پسند سیاسی جماعت کی اپیل پر اتوار کی شام بلغراد میں ملکی پارلیمان کے سامنے ایک مظاہرہ کیا اور ملاڈچ کی ممکنہ ملک بدری کے خلاف احتجاج کیا۔

ان مظاہرین میں شامل ایک خاتون نے اپنی اور اپنے ساتھی مظاہرین کی سوچ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اور اس کے ساتھی اس مظاہرے کے لیے اس لیے جمع ہوئے ہیں کہ راتکو ملاڈچ کی گرفتاری ایک ایسا باعث شرم واقعہ ہے، جس میں مبینہ طور پر سربیا کے ایک ہیرو، جنرل راتکو ملاڈچ کی تذلیل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

ان مظاہرین میں راتکو ملاڈچ کا بیٹا دارکو ملاڈچ بھی شامل تھا۔ دارکو ملاڈچ نے اس مظاہرے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کون کہتا ہے کہ راتکو ملاڈچ نے کسی سے بدلہ لیا۔ جو بھی ایسا کوئی دعویٰ کرتا ہے، وہ جھوٹ بولتا ہے۔ راتکو ملاڈچ کے بیٹےکے بقول، اس کے والد نے اپنی اور دوسری قوموں کے افراد کے تحفظ کی کوشش کی۔ دارکو ملاڈچ کے مطابق، راتکو ملاڈچ نے کبھی کسی قوم یا مذہب کے خلاف کوئی جنگ نہیں لڑی بلکہ اس بوسنیائی سرب جنرل نے صرف اپنی قوم کی آزادی کا دفاع کیا تھا۔

اس مظاہرے کے دوران راتکو ملاڈچ کے بیٹے نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ دی ہیگ میں اقوام متحدہ کی جنگی جرائم سے متعلق عدالت دراصل ایک ’سرب دشمن ادارہ‘ ہے، جہاں اس کے والد کے لیے کوئی جگہ اس لیے نہیں بنتی کہ وہ قطعی طور پر ایک ’معصوم انسان ہیں‘۔ دارکو ملاڈچ نے مظاہرے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ راتکو ملاڈچ نے بطور جنرل کبھی بھی عام شہریوں یا قیدیوں کے قتل کا کوئی حکم نہیں دیا تھا۔

راتکو ملاڈچ کے حق میں بلغراد میں ہونے والے اس مظاہرے سے قطع نظر یہ بات اپنی جگہ طے ہے کہ اس سابق بوسنیائی سرب جنرل کا جنگی جرائم کے مرتکب ایک مطلوب ملزم کے طور پر دی ہیگ کی عدالت کے حوالے کیا جانا اب مہینوں اور ہفتوں کی نہیں بلکہ صرف گھنٹوں اور دنوں کی بات رہ گئی ہے۔

رپورٹ: ژورگ پاس / مقبول ملک

ادارت: کشور مصطفیٰ

DW.COM

ویب لنکس