1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

راتکو ملاڈچ کی گرفتاری اور عالمی رد عمل

بوسنیائی جنگ کے ملزم ملاڈچ کو بلغراد کی عدالت میں پیش کر دیا گیا ہے۔ دوسری جانب بین الاقوامی برادری نے اقوام متحدہ کی عدالت کو مطلوب روپوش سرب جرنیل کی گرفتاری پر مسرت کا اظہار کیا ہے۔

default

راتکو ملاڈچ: فائل فوٹو

سابق جنرل راتکو ملاڈچ سابقہ جمہوریہ Srpska کی فوج کا کمانڈر انچیف تھا۔ وہ 1992 سے 95 تک جاری رہنے والی بوسنیائی جنگ کے دوران وقوع پذیر ہونے والے جنگی جرائم میں بین الاقوامی عدالت برائے سابقہ یوگوسلاویہ (ICTY) کو مطلوب تھا۔ سن 2008 میں کراڈچچ کی گرفتاری کے بعد ملاڈچ اس جنگ کے حوالے سے انتہائی اہم مطلوب ملزم تھا۔ ملاڈچ کی گرفتاری پر بین الاقوامی برادری کی جانب سے مسرت کا اظہار سامنے آیا ہے۔

فرانسیسی سیاحتی مقام دوول میں جی ایٹ کی سمٹ میں شریک عالمی رہنماؤں نے بھی ملاڈچ کی گرفتاری کو اہم قرار دیا۔ امریکی صدر باراک اوباما نے کہا کہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد ملاڈچ کی گرفتاری انتہائی اہم واقعہ ہے۔ اوباما کا یہ بھی کہنا تھا کہ ملاڈچ کی گرفتاری سے سربیا اور بوسنیا کے متاثرین کو یقینی طور راحت ملی ہو گی۔ جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے ملاڈچ کی گرفتاری کو بوسنیا، سربیا اور مغربی بلقان کے ساتھ ساتھ سارے یورپ کے لیے ایک اچھی خبر قرار دیا ہے۔

NO FLASH Ratko Mladic Festnahme

راتکو ملاڈچ اپنے فوجیوں کے ہمراہ، سن 1993 میں

صنعتی ملکوں کے گروپ جی ایٹ کی سمٹ کے میزبان ملک فرانس کے صدر نکولا سارکوزی نے ملاڈچ کی حراست پر سربیا کے صدر کو مبارک باد کا پیغام روانہ کرتے ہوئے کہا کہ اب یورپی یونین کے دروازے سربیا پر کھل جائیں گے۔ یورپی یونین کے خارجہ امور کے ادارے کی سربراہ کیتھرین ایشٹن کا کہنا تھا کہ اس گرفتاری کے بعد اب سربیا کے یونین میں شمولیت کے معاملات سبک رفتاری کے ساتھ آگے بڑھیں گے۔ یورپی کمیشن کے صدر یوزے مانویل باروسو کے خیال میں ملاڈچ کی گرفتاری سے سربیا اور یونین کے تعلقات میں مثبت تبدیلی پیدا ہوگی اور یہ گرفتاری سربیا میں قانون کی حکمرانی کے احترام کا پتہ دیتی ہے۔ ملاڈچ کی گرفتاری کا خیر مقدم اقوام متحدہ اور نیٹو کے سربراہوں کی جانب سے بھی سامنے آیا ہے۔

بین الاقوامی عدالت برائے سابقہ یوگوسلاویہ (ICTY) کے چیف پراسیکیوٹر Serge Brammertz کے مطابق اس گرفتاری کی خبر سے سب سے پہلے وہ خاندان ذہن میں آتے ہیں، جو ملاڈچ کے جرائم سے متاثر ہوئے تھے۔ اسی طرح مدرز آف سربرینتسا کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا کہ جنرل ملاڈچ کی گرفتاری سے ان کو مسرت ملی ہے۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ طویل عرصے کے بعد سربرنیٹسا میں نسل کشی کا ملزم پکڑا گیا ہے۔

کروشیا کے وزیر اعظم Jadranka Kosor نے ملاڈچ کی گرفتاری کو انصاف، استحکام اور حتمی امن کے تناظر میں ایک اچھی خبر سے تعبیر کیا۔ ان کے مطابق اب جلد ہی Goran Hadzic کی گرفتاری کی اطلاع سامنے آئے گی۔ مفرور اور روپوش سرب لیڈرGoran Hadzic کروشیا کی جنگ میں سرزد ہونے والے انسانیت کے خلاف جرائم میں بین الاقوامی عدالت برائے سابقہ یوگوسلاویہ (ICTY) کو مطلوب ہے۔ کروشیا کے صدر Ivo Josipovic نے بھی ملاڈچ کی گرفتاری کو پورے خطے میں خاص طور پر سربیا اور بوسنیا کے درمیان بہتر تعلقات کے لیے اہم قرار دیا ہے۔

رپورٹ: عابد حسین ⁄ خبر رساں ادارے

ادارت: امجد علی

DW.COM

ویب لنکس