1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

رابعہ قادر: اولمپکس میں پہلی پاکستانی رضا کار خاتون

پانچ اگست سے شروع ہونے والے اٹھائیسویں اولمپک کھیلوں میں شرکت کے لیے دنیا بھر سے دس ہزار پانچ سو اتھلیٹ کمر بستہ ہیں لیکن تاریخ میں پہلی بار کوئی پاکستانی کھلاڑی اولمپکس کے لیے براہ راست کوالیفائی نہیں کر پایا۔

برازیل کا ریو اولمپک پاکستان ہاکی کے بھی گم گشتہ فسانوں کا پتہ دے رہا ہے۔ لیکن ریو ڈی جنیرو میں میدان پر نہ سہی میدان سے باہر پاکستان ہاکی کی اشک شوئی کے لیے رابعہ قادر ضرور موجود ہوں گی۔ رابعہ پاکستانی خواتین ہاکی ٹیم کی اہم کھلاڑی ہیں اور انہوں نے طویل جدو جہد کے بعد پہلی پاکستانی خاتون اولمپک وولنٹیر بننے کا اعزاز حاصل کیا ہے۔ انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی نے رابعہ کو ریو میں ایکویٹک اسپوڑسس میں رضاکار کی ذمہ داریاں سونپی ہیں۔

رابعہ قادر نے لاہور میں ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’بطور ہاکی کھلاڑی کے مجھے پاکستان ہاکی ٹیم کے اولمپکس سے پہلی بار باہر ہونے کا بہت افسوس ہوا اور اسی وقت ہی مجھے یہ خیال آیا کہ میں کسی طرح اولمپکس گیمز کا حصہ بن کر پاکستان کی نمائندگی کر سکوں۔ ہاکی ٹیم گیم اس لیے وائلڈ کارڈ پر تو میری شرکت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ اسی دوران ریو اولمپکس کی آرگنائزنگ کمیٹی کی جانب سے والنٹیر پروگرام کا آغاز ہوا تو میں نے بھی فورا اس کے لیے اپلائی کر دیا۔ لیکن معلوم نہ تھا کہ اولمپک رضا کار بننا بھی اتنا ہی مشکل ہے جتنا کسی کھلاڑی کے لیے اولمپکس کے لیے کوالیفائی کرنا۔ مجھے بعض بہت صبر آزما مراحل سے گزرنا پڑا، جس میں آن لائن انٹرویوز، پرتگالی اور انگریزی زبان کے ٹیسٹ سمیت کئی تحریری امتحان بھی شامل تھے۔‘‘

رابعہ نے جو پاکستان خواتین ہاکی ٹیم میں رایٹ آوٹ کی پوزیشن پر کھیلتی ہیں اور دوہزار بارہ میں پلیر آف دی ایئر کا ایوارڈ جیت چکی ہیں نے مزید بتایا، ’’دنیا بھر میں والنٹیرز کو نہایت قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں ابھی تک اس کی اہمیت کو تسلیم نہیں کیا گیا۔ اس حوالے سے مجھے کئی تلخ تجربات کا سامنا کرنا پڑا لیکن میں نے ہمت نہیں ہاری اور یہ عہد کیا کہ ایک دن اپنے ہم وطنوں کو بھی اس کی اہمیت سے آگاہ کروں گی تاکہ وہ بھی ترقی یافتہ اقوام کی طرح سوچتے ہوئے والنٹیرز کو وہی عزت و احترام دیں جو دنیا بھر میں انہیں دیا جاتا ہے۔‘‘

رابعہ کا مزید کہنا تھا کہ دنیا بھر سے اعلیٰ تعلیم یافتہ، پیشہ ور، جن میں نامور ڈاکٹر، انجینئر اور ماہر تعلیم شامل ہیں ریو اولمپکس اولمپک گیمز والنٹیر پروگرام کا حصہ بن کر اپنے ملک کی نیک نامی کا باعث بن رہے ہیں۔

رابعہ قاد کا کہنا تھا کہ پاکستان میں جہاں بہت سے لوگوں نے میری حوصلہ شکنی کی وہیں کچھ ایسے بھی تھے جنہوں نے نہ صرف میرا حوصلہ بڑھایا بلکہ مالی مدد بھی کی۔

رابعہ قادر کے مطابق، ’’ایک موقع پر میں ہمت ہار چکی تھی اور والنٹیر پروگرام چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا تھا لیکن پھرگھر والوں نے میری ہمت بندھائی اور بالاخر رواں برس مئی میں ریو اولمپکس کے لئے منتخب ہونے کی خوشخبری ملی تو میری خوشی کا کوئی ٹھکانا نہ تھا کیونکہ کئی مشکلات کے بعد میں پاکستان کی پہلی خاتون اولمپک والنٹیرکے طور پر کوالیفائی کر چکی تھی۔‘‘

رابعہ کے بقول پاکستانیوں کے لئے والنٹیرازم کی سب سے بڑی مثال عبدالستار ایدھی ہیں، جنہوں نے انسانیت کی خدمت کا بیڑہ اٹھایا اور ایک ایسا ادارہ بنایا، جو دنیا میں اپنی مثال آپ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایدھی ان کے رول ماڈل ہیں اور وہ بھی انہی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے لوگوں میں انسانیت کی خدمت کا جذبہ پیدا کرنا چاہتی ہیں۔