1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

رابطہ کمیٹی سے مذاکرات کیوں؟ آفاق احمد کا خصوصی انٹرویو

ایم کیو ایم حقیقی کے سربراہ آفاق احمد نے چوبیس سال بعد ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کو پیش کش کی ہے کہ وہ مہاجروں کے مسائل حل کرنے کے لئے مذاکرات چاہتے ہیں اور اس مقصد کے لیے وہ خود ایم کیو ایم کے مرکز جانے کو تیار ہیں۔

ڈی ڈبلیو کے ساتھ خصوصی بات چیت کرتے ہوئے ایم کیو ایم حقیقی کے سربراہ آفاق احمد نے ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین کو تو نہیں لیکن رابطہ کمیٹی کو مذاکرات کی پیش کش کی ہے۔ آفاق احمد نے یہ پیش کش ایک ایسے وقت میں کی ہے، جب متحدہ قومی مومنٹ میں توڑ پھوڑ کا عمل جاری ہے اور اس سیاسی جماعت کے کئی رہنما پارٹی چھوڑ کر باغی رہنما مصطفٰی کمال کی پارٹی میں شامل ہو چکے ہیں۔

ڈی ڈبلیو: آپ ایم کیو ایم کے بانی اراکین میں سے ہیں اور آپ نے الطاف حسین سے واشگاف الفاظ میں نہ صرف اختلاف کیا بلکہ اپنی علیحدہ جماعت بھی بنائی۔ آپ کے ساتھ جو لوگ ایم کیو ایم چھوڑ کر آئے تھے، ان میں سے اکثریت تو واپس الطاف حیسن سے جا ملی، آخر کیوں؟

آفاق احمد: میرا اختلاف اصول کی بنیاد پر تھا، ہے اور رہے گا۔ ہم نے ایم کیو ایم اس لیے بنائی تھی کہ مہاجروں سے ہونے والی زیادتیوں کے خلاف آواز اٹھائی جائے، کوٹہ سسٹم ختم کیا جائے، مشرقی پاکستان سے پاکستانیوں کی باعزت واپسی ہوسکے اور مہاجروں کو ان کے دیگر جائز حقوق دلائے جاسکیں۔ جو لوگ میرا ساتھ چھوڑ کر واپس ایم کیو ایم میں چلے گئے وہ شاید مشکلات برداشت کرنے کے قابل نہیں تھے یا شاید ان کا کوئی ذاتی مفاد اجتماعی مفاد پر حاوی آگیا، اس سوال کا جواب ان سے لیا جانا چاہیے۔

ڈی ڈبلیو: آپ کی ایم کیو ایم سے علیحدگی اور مصطفٰی کمال کی علیحدگی کو ایک ہی انداز میں کیوں دیکھا جارہا ہے؟

آفاق احمد: ایم کیو ایم کو ابتدا سے ہی مافیا کے انداز میں چلایا گیا، جس کے باعث یہ تاثر پیدا ہوا کہ ایم کیو ایم میں صرف داخل ہونے کا راستہ ہے، واپسی کا نہیں۔ مافیا کا دائرہ مختصر تھا، اس کی طاقت کم تھی، لہذا اختلاف کرنے والوں کو مار پیٹ کر چھوڑ دیا جاتا تھا۔ یہ مافیا 1992ء میں بہت بڑھ گیا تھا، لہذا اختلاف کی سزا موت قرار دی جاتی تھی اور میرے بھی سینکڑوں ساتھی قتل کردیے گئے۔ میری اور مصطفیٰ کمال کی ایم کیوایم سے علیحدگی میں کوئی مماثلت نہیں ہے۔ میں نے اصولی سیاست کی بنیاد پر علیحدگی اختیار کی تھی مگر کبھی کسی پر الزام نہیں لگایا تھا۔ میں آج بھی سمجھتا ہوں کے ایم کیو ایم کے کارکنوں پر الطاف حسین کا احترام واجب ہے مگر میں سمجھتا ہوں کہ جب تک ہم مہاجروں کو ان کے جائز حقوق نہیں دلا دیتے، ہمیں ملکی سیاست کرنے کا حق حاصل نہیں ہے۔ مگر میری تازہ ترین پیش کش الطاف حسین کے لئے نہیں بلکہ پاکستان میں موجود رابطہ کمیٹی کے لئے ہے۔ اگر انہیں مجھ سے یا میرے ساتھیوں سے کوئی شکایت ہے تو جھوٹے مقدمات درج کرانے یا خون خرابے کی بجائے آپس میں بیٹھیں اور مذاکرات کے ذریعے معاملات طے کیے جائیں۔ میرا ہمیشہ سے یہ نظریہ رہا ہے کہ اختلاف کسی کے قتل کی بنیاد نہیں ہوتا، یہ بھی درست ہے کہ مجھے اب تک ووٹ کی صورت میں کامیابی حاصل نہیں ہوئی مگر اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ میں اپنی ذمہ داریوں سے نظر چرالوں اور اپنی قوم کے حقوق کی بات کرنا چھوڑ دوں۔ ماضی میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز کی حکومتوں کو بلیک میل کرنے کے لئے ایم کیو ایم کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا مگر اب صورت حال تبدیل ہوچکی ہے۔‘‘

ڈی ڈبلیو: کراچی میں امن کی بحالی کے لئے ایک بار پھر آپریشن کیا جا رہا ہے، اس صورت حال کو آپ کس نظر سے دیکھتے ہیں؟

آفاق احمد: میری رائے میں کراچی کو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت بدامنی کا شکار بنایا گیا لیکن اب امن صرف عوام نہیں بلکہ حکمرانوں کی بھی ضرورت ہے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ آپریشن کے نتیجے میں امن و امان کی صورت حال بہت بہتر ہوئی ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی حکمت عملی پہلے سے بہتر ہے، ماضی کے برعکس ٹارگیٹڈ کارروائیاں کی جارہی ہیں لیکن کراچی کے عوام نے اس امن کی بہت بھاری قیمت ادا کی ہے۔ آج کسی کو یاد نہیں کہ کراچی میں تعلیم کا نظام تباہ ہوچکا ہے، سڑکیں ٹوٹ پھوٹ چکی ہیں، گڑ اُبل رہے ہیں، روزگار کا حق چھین لیا گیا ہے لیکن پھر بھی ہم اپنے اداروں کی عزت کرتے ہیں۔ اگر کسی کے پاس الطاف حسین کے خلاف بھارتی خفیہ ایجنسی سے تعلقات کے ثبوت ہیں یا کوئی ان کی ایسی کسی سرگرمی کا گواہ ہے، تو قانون کے مطابق اس کا عدالت میں بیان قلم بند ہونا چاہیے۔ لیکن کیا حسین حقانی نے میمو گیٹ میں آئی ایس آئی کو بدنام نہیں کیا تھا مگر ایم کیو ایم کے کارکن آفتاب احمد کی رینجرز کی تحویل میں ہلاکت پر آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے تحقیقات کا حکم دے کر مبثت اقدام اٹھایا ہے۔ اسی طرح کے معاملات کے باعث ماضی میں صورت حال بہتری کی بجائے خرابی کی طرف چلی گئی تھی۔ لہذا اس واقعے کی تحقیقات کرکے ذمہ داروں کو سزا ملنی چاہیے۔‘‘

ڈی ڈبلیو: آپ کی جانب سے مذاکرات کی پیش کش کا ایم کیو ایم نے مثبت جواب نہیں دیا بلکہ آپ سے معافی کا مطالبہ ہے، کیا آپ کی پیش کش اب بھی موجود ہے؟

آفاق احمد:میرا ماننا ہے کہ مہاجروں کو آپس میں دست و گریباں ہونے کی بجائے سمجھنا چاہیے کہ اس صورت حال سے فائدہ کس کا ہے؟ جلدی یا تاخیر سے کراچی کی تقسیم کے منصوبے پر عملدرآمد ہوگا۔ ضلع ملیر کو شہر سے الگ کر دیا جائے گا کیونکہ کراچی ورٹیکل کی بجائے ہاریزینٹل انداز میں بڑھ رہا ہے۔ لہذا تقسیم کی وجہ بتائی جائے گی کہ کراچی بہت بڑا ہوگیا ہے اور اسکا انتظام چلانا مشکل ہوگیا ہے۔ لہذا شہر کو تقسیم کرنا ضروری ہے مگر رابطہ کمیٹی کے لئے میری پیشکش موجود ہے اور رہے گی۔ اگر وہ ایک سال بعد بھی سمجھیں میں صحیح کہہ رہا ہوں تو وہ میرے پاس آسکتے ہیں یا مجھے بلاسکتے ہیں۔