1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

رابرٹ گیٹس اچانک پاکستان میں

امریکی وزیر دفاع اسلام آباد پہنچ چکے ہیں۔ اس دورے کے دوران ان کی گفتگو کا مرکز افغانستان میں نئی امریکی حکمت عملی اور عسکریت پسندوں کے خلاف جاری پاکستانی فوجی کارروائی کا دائرہ مزید وسیع کرنے کا معاملہ رہے گا۔

default

امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس

بھارت میں اعلیٰ حکومتی عہدیداروں سے ملاقاتوں کے بعد دوروزہ دورے پر پاکستان پہنچنے والے امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے اسلام آباد پہنچنے پر کہا کہ پاکستان اورافغانستان کی سرحد پر دہشت گردوں کی محفوظ پناگاہوں کا خاتمہ ضروری ہے ورنہ دونوں ممالک میں دہشت گردی کی شدت میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔ انہوں نے عسکریت پسندوں کے خلاف پاکستانی فوجی آپریشن کی تعریف بھی کی اور کہا کہ اس آپریشن کے باعث ایسے دہشت گرد جن سے ہمیں خطرہ لاحق ہوسکتا ہے، محفوظ پناگاہوں کو چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔

گزشتہ برس امریکی صدر باراک اوباما کےحکومت سنبھالنے کے بعد سے امریکی وزیر خارجہ رابرٹ گیٹس کا یہ پہلا دورہ پاکستان ہے۔ ان کے اس دورے کو اس لئے بھی خاص اہمیت حاصل ہے کہ ایک جانب تو امریکہ اپنی نئی افغان پالیسی کے تحت پاکستان سے "ڈو مور" یعنی پاک افغان سرحدی علاقوں میں مبینہ طور پر موجود القاعدہ اور طالبان عسکریت پسندوں کے خلاف جاری آپریشن میں مزید وسعت لانے کا متقاضی ہے تو دوسری جانب پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات بھی کشیدگی کا شکار ہیں۔

گزشتہ ایک ماہ کے دوران دونوں ملکوں کے درمیان کشمیر کے متنازعہ علاقے میں فائرنگ کے کئی واقعات رونما ہوچکے ہیں جن میں تازہ ترین منگل 19 جنوری کو ہوا جس میں ایک پاکستانی فوجی ہلاک ہوا۔

دوسری جانب گزشتہ روز بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں رابرٹ گیٹس نے دہشت گرد گروپوں کی جانب سے پاک بھارت تعلقات کو مزید خراب کرانے کی کوششوں کا بھی ذکر کیا: " مجھے یقین ہے کہ القاعدہ کی چھتری کے نیچے کام کرنے والے ایسے گروپوں کا مقصد صرف افغانستان اور پاکستان کا امن تباہ کرنا ہی نہیں، بلکہ وہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی پیدا کرکے اس پورے خطے کو غیر مستحکم بنانا چاہتے ہیں، جس کے لئے وہ بعض اشتعال انگیز یا دہشت گردانہ کارروائیوں کا سہارا بھی لے سکتے ہیں۔ یا پھر وہ اسی مقصد کے لئے پاکستان کے اندر دہشت گردانہ کارروائیاں کرکے عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں۔"

Pakistan Militärsprecher Athar Abbas in Rawalpindi

میجر جنرل اطہر عباس

ادھرامریکہ کی خواہش ہے کہ پاکستان، ملک کے شمال مغربی علاقے جنوبی وزیرستان میں جاری فوجی کارروائی کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے اسے شمالی وزیرستان تک بڑھائے تاکہ عسکریت پسندوں کا مکمل طور پر صفایا کیا جاسکے۔ مگر رابرٹ گیٹس کے دورہ پاکستان کے آغاز پر ہی پاکستانی فوج نے اعلان کیا ہے کہ فی الحال جنوبی وزیرستان کو عسکریت پسندوں سے مکمل خالی کرانے میں چھ ماہ سے لے کر ایک سال تک کا عرصہ لگ سکتا ہے۔

پاکستانی فوجی ترجمان میجر جنرل اطہر عباس کے مطابق طالبان کے گڑھ تصور کئے جانے والے علاقے جنوبی وزیرستان میں استحکام پیدا کرنے اور شدت پسندوں سے مکمل طور پر پاک کرنے میں اب بھی ایک برس تک کا وقفہ درکار ہے۔

رپورٹ: افسر اعوان

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM