1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

NRS-Import

رابرٹ مگابے کی امریکی سفیر کو ملک بدری کی دھمکی

تنازعات اور مسائل میں گھرے زمبابوے کے صدر رابرٹ مگابے کے قریبی ساتھیوں کا کہنا ہے کہ اگر صدارتی انتخابات کے دوسرے دور میں رابرٹ مگابے کو شکست کا سامنا کر نا پڑا تو وہ اپنا عہدہ چھوڑ دیں گے۔

default

اپنے سیاسی کیریر کی کمزور ترین سطح پر کھڑے زمبابوے کے صدر رابرٹ مگابے

اٹھائیس برس تک اقتدار کے مزے لوٹنے والے زمبابوے کے صدر رابرٹ مگابے اپنے سیاسی کیرئیر کی کمزور ترین سطح پر کھڑے ہیں۔

انتیس مارچ کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں واضح اکثریت نہ حاصل ہونے کے بعد مگابے حکومت نے صدارتی انتخابات کے دوسرے دور میں داخل ہونے کو ترجیح دی ہے مگر مبصرین کی رائے میں حذبِ مخالف رہنما مارگن چوانگرائی کے مقابلے میں ان کی پوزیشن خاصی کمزور ہو چکی ہے۔ صدارتی انتخابات کے پہلے دور سے لے کر اب تک ہونے والے پر تشدد واقعات نے صدر مگابے کو ایک متنازعہ شخصیت بنا دیا ہے۔ دوسری جانب ایک خستہ حال معیشت بھی مگابے کے غریب طبقے سے تعلق رکھنے والے حامیوں میں مایوسی پیدا کر رہی ہے۔


دوسری جانب مارگن چوانگرائی زمبابوے واپس پہنچ چکے ہیں اور وہ نئے عزم کے ساتھ صدارتی انتخابات کے دوسرے دور میں رابرٹ مگابے کا مقابلہ کرنے کے لیے تیّار نظر آتے ہیں۔ مگر رابرٹ مگابے کا کہنا ہے کہ چوانگرائی بز دل ہیں اور وہ مغربی ممالک کی حمایت سے بر سر اقتدار آنا چاہتے ہیں۔


رابرٹ مگابے کی توپوں کا رخ امریکہ اور برطانیہ کی جانب بھی ہے جن پر وہ زمبابوے کے داخلی معاملات میں مداخلت کا الزام عائد کرتے آ رہے ہیں۔ مبصرین کی رائے میں چوراسی سالہ مگابے کو اب بھی زمبابوے کی ایک اچھی خاصی آبادی اس ہیرو کے طور پرجانتی ہے جس نے زمبابوے کو انیس سو اسّی میں برطانیہ کے قبضے سے آزادی دلوائی تھی۔


گزشتہ چند سالوں میں زمبابوے کا شمار افریقہ کے بد حال ترین ملکوں میں ہونے لگا ہے اور حذبِ اختلاف اور مغربی ممالک اس کا زمہ دار رابرٹ مگابے کی حکومت کو ٹھہراتے ہیں۔ دوسری جانب رابرٹ مگابے تا حال اپنے مغرب مخالف ہونے کا کارڈ استعمال کرتے نظر آرہے ہیں ۔ ایک حالیہ تقریر میں انہوں نے زمبابوے میں تعینات امریکی سفیر جیمس میک گی کو ملک بدر کرنے کی دھمکی بھی دی ہے۔


مغرب مخالف نعرے بلند کرنے کے با وجود کیا رابرٹ مگابے انتیس جون کو ہونے والے صدارتی انتخابات کے دوسرے دور میںفتح حاصل کر پائیں گے؟ مبصرین کی رائے میں انتخابات کا فاتح وہی ہوگا جو ملکی معیشت میں بہتری اور داخلی امن و استحکام کی بہتر ضمانت عوام کو دے پائے گا۔