1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

رائس 24 گھنٹوں کے لئےمشرق وسطی میں

شرق وسطی تنازعے کو حل کرنے اور دیرپا امن کی بحالی کے لئے ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے ۔رائس

default

امریکی وزیرخارجہ کونڈولیزا رائس گزشتہ دو سالوں کے دوران 18 ویں مرتبہ مشرق وسطی کا دورہ کیا۔ اسرائیل پہنچنے پررائس نے کہا کہ انہیں اس بات کا بخوبی علم ہے کہ مشرق وسطی تنازعے کو حل کرنے اور دیرپا امن کی بحالی کے لئے ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے ۔

Israel USA Condoleezza Rice bei Ehud Olmert in Jerusalem

کونڈولیزا رائس اور ایہود اولمرٹ


24 گھنٹوں کے اس دورے میں دورے کے دوران کونڈولیزا رائس نے اپنی اسرائیلی ہم منصب زپی لیونی سے ملاقت کی۔ جس میں مشرق وسطی امن مذاکرات کے ساتھ ساتھ فلسطینی علاقوں میں یہودی بستیوں کی تعمیرپر بھی بات چیت ہوئی۔ بعد ازاں ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رائس نے کہا کہ اس وقت ایسے عملی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے کہ جس سے اسرائیل اور فلسطین کے مابین اعتماد سازی کی فضاء کو تقویت مل سکے۔ ساتھ ہی رائس نے فلسطینی علاقوں میں یہودی بستیوں کی تعمیر کے اسرائیلی منصوبے کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ یہودی بستیوں کی تعمیر کا منصوبہ قیام امن کسی بھی صورت مددگار نہیں ہو گا۔ جبکہ اسرائیلی وزیرخارجہ زپی لیونی نے کہا کہ ہم یہ چاہتے ہیں کہ اس سال کے آخرتک امن معاہدے طے پا جائے اوراس حوالے سے یہودی بستیوں کی تعمیر کے منصوبے کو جاری امن بات چیت میں رکاوٹ نہ بنایا جائے۔

Westjordanland USA Palästinenser Condoleezza Rice bei Mahmoud Abbas in Ramallah

رائس اور محمود عباس

بعد ازاں رائس نے فلسطینی انتظامیہ کے صدر محمود عباس سے بھی ملاقات کی۔ رملہ میں ہونے والی اس ملاقات میں رائس نے مشرق وسطی میں قیام امن کےعمل میں تیزی لانے کے لئے نئی تجاویز پیش کیں اورساتھ ہی یہودی بستیوں کی تعمیر کا موضوع بھی زیر بحث آیا۔ صدرعباس کے ترجمان Nabil Abu Rudeina نے کہا کہ اگلہ ہفتہ امن عمل کے لئے فیصلہ کن ثابت ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکی وزیر خارجہ کی پیش کی جانے والی تجاویزپرعمل درآمد کی کوششیں جاری رکھی جائیں گی اورفریقین ایک فیصلہ کن مرحلے پرپہنچ چکے ہیں۔

دوسری جانب نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پرایک فلسطینی رہنما نے بتایا کہ اسرائیل، فلسطین اورامریکی حکام کے مابین ایک معاہدے پراتفاق رائے ہوگیا ہے۔ جس کا باقاعدہ اعلان امریکی صدربش اورمحمود عباس کی رواں سال 21 ستمبرکو ہونے والی ملاقات میں کیا جائے گا۔ مشرق وسطی کے اپنے اس چوبیس گھنٹے کےدورے کہ دوران کونڈولیزا رائس نے اسرائیلی وزیر اعظم ایہود اولمرٹ سے بھی ملاقات کی۔