1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

راؤل کاسترو کا تاریخی دورہء فرانس

کیوبا کے صدر راؤل کاسترو اپنا تاریخی دورہء فرانس شروع کر رہے ہیں۔ اس دورے میں یہ جزیرہ ریاست یہ کوشش کرے گی کہ وہ مغربی ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کا احیاء کرے۔

کیوبا کے رہنما کو آرک ڈے ٹریمفی میں خوش آمدید کہا جائے گا، جب کہ اس موقع پر شانزے لیزے میں کیوبا اور فرانس کے جھنڈے بھی لگائے گئے ہیں۔

84 سالہ کاسترو سن 2006 میں برسراقتدار آنے کے بعد پہلی مرتبہ فرانس کا سرکاری دورہ کر رہے ہیں۔ اس سرکاری دورے کے آغاز سے قبل وہ نجی دورے پر ہفتے کو پیرس پہنچے تھے۔

گزشتہ برس فرانس نے کیوبا کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات کا دوبارہ آغاز کیا تھا۔ طویل عرصے تک امریکا کے ساتھ رقابت کی وجہ سے دیگر مغربی ممالک نے بھی کیوبا کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات ختم کر رکھے تھے۔

Bundeswirtschaftsminister Gabriel in Kuba

دیگر مغربی اقوام بھی کیوبا کے قریب جا رہی ہیں

کاسترو کے دورہ پیرس کے حوالے سے فرانسیسی صدر فرانسوا اولانڈ نے کہا کہ یہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں مضبوطی کا ایک نیا باب ہو گا۔ اولانڈ نے بھی گزشتہ برس مئی میں کیوبا کا دورہ کیا تھا۔ گزشتہ نصف صدی میں کسی مغربی ملک کے وہ پہلے سربراہ تھا، جو کیوبا گئے تھے۔

ہوانا یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات سے وابستہ اڈوارو پیریرا کے مطابق، ’کیوبا کے تشخص کے لیے یہ دورہ انتہائی اہم ہے۔‘‘

ان کا مزید کہنا تھا، ’بین الاقوامی سطح پر اس سے کیوبا کو اپنی اہمیت بڑھانے کا موقع ملے گا۔‘‘

کہا جا رہا ہے کہ اس دورے میں کیوبا فرانس کے ساتھ سیاسی، اقتصادی، تجارتی، سرمایہ کاری، ثقافت اور دیگر شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے کا خواہش مند ہے۔

ابھی امریکا نے کیوبا پر عائد اپنی تجارتی پابندیوں کا مکمل خاتمہ نہیں کیا ہے، تاہم یورپی اور امریکی سرمایہ کار اس جزیرہ ریاست میں مالیاتی منڈیوں میں اپنی جگہ حاصل کرنے کی تگ و دو شروع کر چکے ہیں۔ صدر اولانڈ نے بھی اپنے دورہ ہوانا کے موقع پر امریکا سے درخواست کی تھی کہ وہ کیوبا پر عائد تجارتی پابندیوں کا خاتمہ کر دے۔

امریکا نے سن 1962ء میں کیوبا کے خلاف پابندیوں کو نفاذ کیا تھا، جو اب تک عائد ہیں۔

تجارتی وفود جوق در جوق کیوبا پہنچ رہے ہیں، جن کی کوشش ہے کہ اس ملک کی تربیت یافتہ مزدورں اور قدرتی وسائل مثلاﹰ خوب صورت ساحلوں کو سیاحتی مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے۔