1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

ذہن کو پڑھنے والی مشین، اب دور نہیں

دنیا میں کمپیوٹر سازی کے مشہور ترین اداروں میں سے ایک آئی بی ایم کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ مستقبل قریب میں ایسی مشین بنائی جا سکے گی، جس کے ذریعے انسانی ذہن کو پڑھا جا سکے گا۔

default

بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ مشین یہ بھی معلوم کر لے گی کہ انسانی ذہن کن خیالات سے گزر رہا ہے۔ نیو یارک کی اس کمپنی کی ’آئی بی ایم فائیو اِن فائیو‘ نامی یہ پیشن گوئیاں اب تک کی جانے والی تحقیق کی بنیاد پر کی گئی ہیں۔ آئی بی ایم کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں سن 2017ء تک خاصی پیش رفت ہو چکی ہو گی۔

آئی بی ایم کی جانب سے سالانہ تحقیقی جائزے کے حوالے سے پیر کے روز جاری کردہ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پوری انسانی تاریخ میں یہ معمہ سب سے اہم رہا ہے کہ انسانی ذہن کو کس طرح پڑھا جائے۔ اس سالانہ جائزے میں بتایا گیا ہے کہ آئی بی ایم سے تعلق رکھنے والے سائنسدان اس تحقیق میں مصروف ہیں کہ کس طرح انسانی ذہن کو کمپیوٹر سے منسلک کر دیا جائے بلکہ ویسے ہی جیسے کمپیوٹر کو کمپیوٹر سے جوڑا جاتا ہے۔

Brain Robot und Brain Robot 3 sind Bilder des Projektes Brain-computer interfaces for high level control of service robots - Projekt des Institue of Automation Bremen

انسانی دماغ اور کمپیوٹر کے درمیان براہ راست رابطہ پیدا کرنے کی کوشش برسوں سے جاری ہے

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس طرح صرف سوچ کر کسی شخص کو ٹیلی فون کیا جا سکے گا یا بغیر کسی آلے کے کمپیوٹر اسکرین پر کرسر کو حرکت دی جا سکے گی۔ اس تحقیقی جائزے میں بتایا گیا ہے کہ اس کے لیے ایک راستہ انسانی ذہن کی سوچ کے ساتھ ساتھ چہرے کے بدلتے تاثرات اور آنکھوں کی حرکت بھی ہو سکتی ہے۔

اس رپورٹ میں حوالہ دے کر کہا گیا ہے کہ بیالوجیکل میک اپ انسانی شناخت میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے جبکہ خصوصی سکین کے ذریعے کمپیوٹر انسانی چہروں اور آوازوں میں فرق کر سکتا ہے، اس لیے مستقبل قریب میں پاس ورڈ یا خفیہ اعداد اور الفاظ کی ضرورت ختم ہو جائے گی۔

’’فرض کریں آپ کسی اے ٹی ایم مشین تک پہنچیں۔ اپنا نام بتائیں اور ایک چھوٹے سے سینسر کی طرف دیکھیں اور کمپیوٹر آپ کی آنکھوں کے ریٹینا سے آپ کی شناخت کی تصدیق کر دے اور آپ رقم لیتے ہوئے واپس لوٹ آئیں۔ اسی طرح آپ کمپیوٹر یا اپنے ٹیبلٹ پر اپنا اکاؤنٹ بھی دریافت کر لیں۔‘‘

رپورٹ: عاطف توقیر

ادارت: مقبول ملک

DW.COM