1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

ذہنی دباؤ سے نجات، کافی خواتین کے لیے مفید

ایک تازہ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ روزانہ چار کپ کافی پینے والی خواتین، ان خواتین کی نسبت ذہنی دباؤکا کم شکار ہوتی ہیں جو بہت کم کافی نوش کرتی ہیں۔

default

ہارورڈ اسکول برائے صحت عامہ کے محقق البرٹو اسچیریو نے ایک انٹرویو میں خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ کافی میں استعمال ہونے والی کیفین دنیا بھر میں انسان کے اعصابی نظام کو فعال رکھنے کے لیے سب سے زیادہ مفید ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کافی میں کیفین کی مقدار 80 فی صد کے قریب ہوتی ہے۔

البرٹو اسچیریو نے کہا، ’’کافی پینے سے توانائی حاصل ہوتی ہے اور پینے والا خود کو چاق و چوبند محسوس کرنے لگتا ہے۔‘‘

ان کی تحقیقی ٹیم نے نرسوں کے کورس میں داخلہ لینے والی پچاس ہزار سے زائد خواتین پر تحقیق کی۔ ان خواتین کی اوسط عمر 63 سال تھی اور کورس میں داخلہ لیتے وقت ان میں ان میں سے کوئی بھی ذہنی دباؤ کا شکار نہیں تھی۔

23.06.2010 DW-TV Fit und Gesund depression

زیادہ کافی پینے والی خواتین ذہنی دباؤ کا کم شکار ہوتی ہیں

ہارورڈ اسکول برائے صحت عامہ کی ٹیم نے 1976ء کے بعد 14 سال تک ان خواتین پر تحقیق کی۔ پھر محققین نے ان خواتین کو ان کے کافی کے استعمال کے لحاظ سے مختلف زمروں میں تقسیم کیا اور مزید دس سال تک ان پر تحقیق کی۔

اگرچہ ریسرچ ٹیم کا ارتکاز کافی کے استعمال پر تھا مگر انہیں کیفین پر مشتمل سافٹ ڈرنکس اور چاکلیٹ کے استعمال کے بعد ایسے ہی نتائج  حاصل ہوئے۔

اسچیریو نے کہا کہ کافی کے استعمال کے طویل المیعاد اثرات کے بارے میں ابھی تک بہت کم تحقیق ہوئی ہے۔ فن لینڈ میں چھوٹے پیمانے پر کی جانے والی ایک تحقیق سے ظاہر ہوا کہ وہ مرد جو زیادہ کافی پیتے ہیں ان میں خودکشی کا رجحان کم ہوتا ہے۔

ہارورڈ اسکول برائے صحت عامہ کی ٹیم کی تحقیق سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ زیادہ کافی پینے والے خواتین و حضرات میں رعشہ یا پارکنسنز کے مرض میں مبتلا ہونے کا خطرہ بھی کم ہوتا ہے۔

تاہم انہوں نے کہا کہ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ کافی ذہنی دباؤ کے خلاف کس حد تک تحفظ فراہم کر سکتی ہے مگر اس تحقیق سے کچھ اس سے ملتے جلتے رویوں کی نشاندہی ہوتی ہے۔

جانوروں پر کیے جانے والے تجربات سے ظاہر ہوا ہے کہ کیفین بعض زہریلے مادوں سے تحفظ فراہم کرتی ہے۔ کیفین پر ردعمل ظاہر کرنے والے دماغی حصے ایسی جگہ واقع ہوتے ہیں جو ذہنی دباؤ اور رعشہ دونوں کے لیے اہم ہے۔

رپورٹ: حماد کیانی

ادارت: عابد حسین

DW.COM