1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

ذوالقرنین حیدر وطن پہنچ رہے ہیں

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق وکٹ کیپر ذوالقرنین حیدر 25 اپریل کو برطانیہ سے پاکستان پہنچ رہے ہیں۔ گزشتہ برس نومبر میں وہ اچانک جنوبی افریقہ کے خلاف کھیلی جا رہی سیریز کے دوران دبئی سے لندن فرار ہو گئے تھے۔

default

پاکستانی ٹیم کے سابق وکٹ کیپر ذوالقرنین حیدر کی وطن واپسی کے حوالے سے خبریں کافی عرصے سے گردش کر رہی تھیں۔ تاہم جیو نیوز سے باتیں کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے برطانوی وزارت داخلہ سے سیاسی پناہ کی اپنی درخواست واپس لے لی ہے۔ حیدر کا مزید کہنا تھا کہ اس تناظر میں ان کی پاکستانی وزیر داخلہ رحمان ملک سے ملاقات ہوئی تھی اور وزیر داخلہ نے انہیں تمام تر حفاظتی انتظامات کی یقین دہانی کرائی ہے۔

Zulqarnain Haider Cricketspieler

مجھے قتل کی دھمکیاں مل رہی تھیں، ذوالقرنین حیدر

گزشتہ برس دبئی میں جنوبی افریقہ کے خلاف کھیلی جا رہی ایک روزہ سیریز کے دوران ذوالقرنین ہوٹل سے اچانک لندن فرار ہو گئے تھے۔ انہوں نے لندن پہنچنے پر سیاسی پناہ کی درخواست جمع کرائی تھی۔ ان کے بقول ایک گمنام جواری انہیں قتل کی دھمکیاں دے رہا ہے۔’’جواری چاہتا ہےکہ میں خراب کارکردگی کا مظاہرہ کروں ورنہ سنگین نتائج کے لیے تیار ہو جاؤں‘‘۔

پاکستانی وزیر داخلہ رحمان ملک سے اپنی ملاقات کے بارے میں حیدر کا کہنا تھا ’’ مثبت ماحول میں ہونے والی اس ملاقات میں وزیر داخلہ نے میرے اور میرے گھر والوں کی مکمل حفاظت کی یقین دہانی کرائی ہے‘‘۔ لندن میں اپنے قیام کے دوران ذوالقرنین حیدر نے فیس بک پر بارہا لکھا تھا کہ پاکستانی ٹیم میں بدعنوان عناصرموجودہیں اور وہ تمام تر دھمکیوں اور خطرات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ان کے نام منظر عام پر لائیں گے۔ تاہم ابھی تک وہ اس حوالے سے کوئی ٹھوس ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

Zulqarnain Haider Cricketspieler

ذوالقرنین حیدر گزشتہ برس نومبر میں اچانک لندن فرار ہو گئے تھے

پاکستانی کرکٹ بورڈ کے ایک اہلکار نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ ذوالقرنین حیدر کو وطن واپسی پر بورڈ کے سامنے پیش ہونا پڑے گا۔ پی سی بی کی تادیبی کمیٹی ان سے ٹیم ڈسپلن کی خلاف ورزی کرنے پر سوال جواب کرے گی۔ اس کے بعد ہی ان کے مستقبل کے بارے میں بھی فیصلہ کیا جائے گا۔ کرکٹ بورڈ نے ان کے لندن فرار ہوتے ہی ان کا معاہدہ منسوخ کر دیا تھا۔ پی سی بی کا موقف تھا کہ ذوالقرنین حیدر کو دھمکیوں کے حوالے سے پہلے ٹیم انتظامیہ سے بات کرنی چاہیے تھی اور انہیں اعتماد میں لیے بغیر یہ قدم نہیں اٹھانا چاہیے تھا۔

رپورٹ : عدنان اسحاق

ادارت : امتیاز احمد

DW.COM