1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ذرائع ابلاغ، آزادی، اَقدار: گلوبل میڈیا فورم بون کی آمد آمد

جرمن شہر بون میں ڈوئچے ویلے کا سالانہ گلوبل میڈیا فورم تیرہ سے لے کر پندرہ جون تک جاری رہے گا۔ اس بار اس فورم کا عنوان ہے: ذرائع ابلاغ، آزادی، اَقدار اور اس میں دنیا بھر سے تقریباً دو ہزار تین سو مہمان شریک ہوں گے۔

GMF Header Banner

گلوبل میڈیا فورم تیرہ جون کو شروع ہو رہا ہے اور پندرہ جون تک جاری رہے گا

دنیا بھر کے بحران زدہ خطّوں میں میڈیا کا کردار، بڑھتی ہوئی سنسر شپ اور غلط معلومات پھیلانے کا بڑھتا ہوا رجحان، یہ ہے موضوع، ڈوئچے ویلے (ڈی ڈبلیو) گلوبل میڈیا فورم کا، جو اس سال اپنی نوعیت کا نو واں اجتماع ہو گا۔ اس دوران چالیس سے زیادہ سیشنز میں ایک سو سے زائد ممالک سے آئے ہوئے صحافی، سیاستدان، محققین اور فنکار اپنے اپنے خیالات کا اظہار کر یں گے۔

ان شخصیات میں یورپی پارلیمان کے نائب اسپیکر الیگزانڈر گراف لمبزڈورف، جرمن پارلیمان کی نائب اسپیکر کلاؤڈیا روتھ، امورِ محنت کی خاتون جرمن وزیر آندریا ناہلیس یا پھر میونخ سکیورٹی کانفرنس کے انچارج وولف گانگ ایشنگر بھی شامل ہوں گے۔

بیرونی دنیا سے آنے والے مہمانوں میں متبادل نوبل انعام پانے والی یوگنڈا کی کاشا جیکلین ناباگیسیرا، مصر کے گلیوں میں اپنے فن کا مظاہرہ کرنے والے فنکار ابو بکر یا پھر فلسطینی شامی پیانو نواز ایہام احمد بھی شامل ہوں گے۔ آخری خطاب اقوام متحدہ کی ماحولیاتی کونسل کی عنقریب اپنے عہدے سے رخصت ہونے والی خاتون سربراہ کرسٹیانا فگیریس کریں گی۔

گلوبل میڈیا فورم کی اہمیت کا تذکرہ کرتے ہوئے ڈی ڈبلیو کے ڈائریکٹر جنرل پیٹر لمبورگ نے کہا:’’گلوبل میڈیا فورم میں ایسی ورکشاپس منعقد ہوتی ہیں، جن میں مسائل کے حل پیشِ نظر رکھے جاتے ہیں، شرکاء کو ایک دوسرے کے ساتھ تبادلہٴ خیال کا موقع ملتا ہے اور تحریک دینے والی گفتگوئیں عمل میں آتی ہیں۔ ہم بین الاقوامی میڈیا کے مستقبل کے لیے ڈیجیٹل اسٹریٹیجیز کی اہمیت اور انسانی حقوق کے ساتھ ساتھ میڈیا کی آزادی اور آرٹ اور ثقافت کی آزادی پر لگنے والی قدغنوں پر بھی بحث کریں گے۔‘‘

گلوبل میڈیا فورم کے ناظم الامور پاٹریک لَوئش کے مطابق وہ اس فورم کے ذریعے ایسے لوگوں کو اپنے خیالات کے اظہار کا موقع دینا چاہتےہیں، جو اپنے تصورات کے ذریعے اس دنیا کو مقدور بھر بدل دینا چاہتے ہیں:’’یہ کوئی بلاگر بھی ہو سکتا ہے۔ یہ سول سوسائٹی کا کوئی نمائندہ یا کسی غیر سرکاری انجمن کا کوئی عہدیدار ہو سکتا ہے، جو اپنے گاؤں یا کمیونٹی میں کچھ بدل رہا ہے۔ یہ سیاسی شعبے کا کوئی فیصلہ ساز بھی ہو سکتا ہے۔‘‘

GMF Porträt Aeham Ahmad Piano

اس بار گلوبل میڈیا فورم میں اظہارِ خیال کرنے والوں میں فلسطینی شامی پیانو نواز ایہام احمد بھی شامل ہوں گے

فورم کی ایک تقریب میں ترک اخبار ’حریت‘ کے مدیرِ اعلیٰ سیدت ایرگین کو ’فریڈم آف اسپیچ‘ ایوارڈ سے نوازا جائے گا۔ فورم کے دوسرے روز ایک اور تقریب میں ڈی ڈبلیو کی جانب سے بہترین بلاگز کے ایوارڈ دیے جائیں گے۔ اس سال بنگلہ دیش کا شہری صحافت کا ایک منصوبہ اور خواتین پر تیزاب پھینکنے کے خلاف جاری ایک بھارتی تحریک بھی انعام پانے والوں میں شامل ہیں۔