1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ذات کیا انسانی زندگی سے زیادہ اہم ہے؟

شمالی بھارت میں پولیس نے دو بچوں کو زندہ جلانے کے الزام میں دو افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ہلاک ہونے والے بچوں کا تعلق ’دلت‘ ذات سے ہے۔

بھارتی ریاست ہریانہ کی پولیس نے بتایا کہ اس واقعے کے بعد دلت برادری کی جانب سے شدید احتجاج بھی کیا گیا اور دونوں بچوں کی لاشوں کو اٹھا کر کیے جانے والے اس احتجاج میں ایک ہزار سے زائد سے شریک ہوئے۔ اس دوران مظاہرین نے آگرہ شہر کو جانے والی مرکزی شاہراہ بھی بند کر دی۔

پولیس کے مطابق کئی افراد نے مل کر ضلح بلاب گڑھ کے سنپدھ گاؤں میں ایک گھر پر مٹی کا تیل چھڑک کر آگ لگا دی، جس میں آٹھ ماہ کی ایک بچی اور اس کا ڈھائی سالہ بھائی جھلس کر ہلاک ہو گئے۔ اس واقعے میں ان بچوں کے والدین زخمی ہیں اور ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے۔ متاثرہ خاندان کا تعلق ہندو مذہب میں سب سے نچلی ذات ’دلت‘ سے ہے۔ تاہم ہریانہ کے وزیر اعلی کے دفتر کے ایک اہلکار جواہر یادو نے بتایا، ’’ اس واقعے کا تعلق ذات پات سے نہیں بلکہ یہ خاندانی دشمنی کا معاملہ ہے‘‘۔ انہوں نے اسے ایک افسوسناک واقعہ قرار دیا۔

Indien Politik Kongress Rahul Gandhi

حکومت غریب عوام کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہو گئی ہے، راہول گاندھی

تاہم متاثرہ خاندان کے افراد کا موقف ہے کہ انہیں اونچی ذات کے افراد نے ایک سال قبل قتل کے ایک واقعے کا بدلہ لینے کے لیے نشانہ بنایا ہے۔ ایک مقامی پولیس اہلکار نے بھی نام خفیہ رکھنے کی شرط پر اس موقف کی تصدیق کی ہے۔ حزب اختلاف کے رہنما راہول گاندھی نے ضلع بلاب گڑھ کا دورہ کرتے ہوئے مرکزی حکومت پر شدید تنقید کی ہے۔ ان کے بقول حکومت غریب عوام کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہو گئی ہے۔

کئی دہائیوں سے بھارت میں ہندوؤں کی مختلف ذاتوں کے مابین فسادات ہوتے چلے آ رہے ہیں۔ گزشتہ ماہ ایک گاؤں کی پنچائیت پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے ایک ایسے لڑکے کی دو بہنوں کے ساتھ جنسی زیادتی کا حکم دیا تھا، جو ایک اونچی ذات کی لڑکی کو بھگا کر لے گیا تھا۔ تاہم پنچائیت نے ان الزامات کو مسترد کر دیا تھا۔1947ء میں آزادی کے ساتھ ہی بھارت میں ذات کی وجہ سے امتیازی سلوک کا بھی خاتمہ کر دیا گیا تھا لیکن آج بھی بھارتی معاشرے میں یہ نظام برقرار ہے۔