1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

دی ہیگ کی عدالت میں ملاڈچ کا ہنگامہ

سابق بوسنیائی سرب آرمی چیف راتکو ملاڈچ کو پیر کو دی ہیگ کی عدالت میں پیش کیا گیا، تو اس نے سماعت میں مسلسل رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی، جس پر اسے عدالت سے باہر نکال دیا گیا۔

default

راتکو ملاڈچ

دی ہیگ کی عالمی فوجداری عدالت میں پیر کو پیشی کے دوران راتکو ملاڈچ نے اپنے خلاف الزامات سننے سے بھی انکار کر دیا۔ اس بوسنیائی کمانڈر پر نسلی کشی کے الزامات ہیں۔ اسے سابق یوگو سلاویہ کے لیے قائم بین الاقوامی ٹربیونل نے سولہ برس قبل نسل کشی میں ملوث قرار دیا تھا۔

اس پر الزام ہے کہ 1992ء سے 1995ء تک جاری رہنے والی بوسنیا کی جنگ کے دوران وہ آٹھ ہزار افراد کی ہلاکت میں ملوث رہا۔

عدالتی کارروائی میں رکاوٹ ڈالنے پر انہتر سالہ ملادچ کو سکیورٹی گارڈز کمرہ عدالت سے باہر لے گئے۔ تاہم اس موقع پر وہ وہاں موجود تین ججوں پر چلایا۔ اس نے کہا: ’’وہ مجھے سانس نہیں لینے دے رہے۔‘‘

قبل ازیں جج Alphons Orie نے اسے ٹوپی اتارنے کے لیے کہا تھا، جس پر ملاڈچ نے جج سے کہا کہ وہ انہیں کسی بھی طرح کم تر خیال نہیں کر رہا۔ اس نے کہا: ’’میرا تو سر ٹھنڈا ہو رہا ہے۔ مجھے ٹوپی پہننے دیجئے۔ جب مجھے ٹھنڈ لگتی تو میرا آدھا جسم کام نہیں کرتا۔ آپ مجھ پر ناقابل عمل شرائط عائد کر رہے ہیں۔‘‘

جج نے اس کی یہ درخواست مسترد کر دی اور خبردار کیا کہ پبلک گیلری میں موجود افراد سے رابطہ نہ کریں اور توجہ سماعت پر مرکوز رکھیں۔ جج نے کہا: ’’جناب ملاڈچ، اگر آپ نے لوگوں سے باتیں کرنا جاری رکھا تو کارروائی کی جائے گی۔‘‘

Den Haag Kriegsverbrechertribunal Mladic Niederlande Serbien

جج نے ملاڈچ کی ٹوپی اتروا دی

تاہم ملادچ نے جج کی بات پر عمل نہ کیا جس پر اسے عدالت سے باہر نکال دیا گیا۔ سماعت کچھ دیر بعد اس کی غیرموجودگی میں بحال ہوئی۔ تب جج اوری نے اس کے خلاف گیارہ الزامات پڑھے۔

تین رکنی بینچ نے بتایا کہ عدالت کے رجسٹرار جان ہاکنگ کی درخواست منظور کرنے پر اتفاق ہو گیا ہے، جس میں ملاڈچ کے لیے وکیل مقرر کرنے کے لیے مزید وقت مانگا گیا ہے۔

ملاڈچ نے ججوں سے کہا تھا کہ وہ عدالت کی جانب سے مقرر کیے گئے وکیل کے بجائے اپنے بلغراد کے وکیل Milos Saljic اور روسی وکیل Alexander Mezyayev کی تقرری چاہتا ہے۔

رپورٹ: ندیم گِل/خبر رساں ادارے

ادارت: شامل شمس

DW.COM

ویب لنکس