1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

دی گُڈ سن (اچھا بیٹا): ایک نیا ناول

امریکی ناول نگار اور دانشورمائیکل گروبر کے نئے ناول ’دی گڈ سن‘ کا پلاٹ عالمی دہشت گردی کے تناظر میں ہے، لیکن اس کے تمام کردار پاکستان میں گھومتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔

default

’دی گڈ سن‘ (The Good Son) نامی ناول سردست بیسٹ سیلرز اور تھرلر کی دنیا میں پذیرائی حاصل کرنے کے عمل سے گزر رہا ہے۔ اس ناول کے خالق انتہائی پڑھے لکھے امریکی دانشور مائیکل گروبر ہیں جو سابق امریکی صدر جمی کارٹر کے پالیسی ایڈوائزر رہ چکے ہیں۔ بنیادی طور پر گروبر نے سمندری حیات پر پی ایچ ڈی کر رکھی ہے۔ اس ڈگری کے حصول کے دوران ان کی ریسرچ کا نکتہ اکٹوپس(ہشت پا) کی حیات تھا۔

امریکی مصنف کا نیا ناول بلاشبہ ایک عمدہ کاوش قرار دی جا سکتی ہے۔ اس کتاب کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ مصنف نے مسلم دنیا اور مذہب کے بارے میں خاصا مطالعہ کیا اور اس کے بعد ہی وہ اس قابل ہوئے کہ ایسی کتاب کو تحریر کیا، جس میں ان کے کردار پاکستان کے طول و عرض میں گھومتے پھرتے ہیں۔ اس ناول کی تکمیل میں گروبر کو سات سال کا عرصہ لگا۔

’دی گڈ سن‘ ناول میں ایک سرکس میں کام کرنے والی سترہ سالہ چنچل اور شوخ سونیا بیلی کی ملاقات ایک پاکستانی شہری لغاری سے ہوتی ہے اور اس ملاقات سے شروع ہونے والی دوستی بعد میں شادی میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ شادی کے بعد دونوں لاہور منتقل ہو جاتے ہیں۔ وہاں ان کے گھر ایک لڑکا پیدا ہوتا ہے۔ اس کا نام تھیو رکھا جاتا ہے۔ تھیو اور اس کا باپ کسی نہ کسی طور سوویت یونین کے خلاف افغان مجاہدین کواسلحہ فراہم کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ اس دوران تھیو کا باپ ہلاک ہو جاتا ہے۔ تیرہ سال کی عمر میں تھیو تنہا

Flash-Galerie Stimmung in Afghanistan

ناول ’دی گڈ سن‘ عالمی دہشت گردی کے تناظر میں لکھا گیا ہے

افغان سرکاری فوج کے ساٹھ اہلکاروں اور اُن کے سوویت مشیر کو ہلاک کر کے ایک قلعے کو فتح کرنے میں کامیابی حاصل کرتا ہے۔ سونیا کسی نہ کسی طور اپنے بیٹے کو لے کر امریکہ لوٹ جاتی ہے۔ لاہور میں قیام کے دوران وہ ایک ماہر نفسیات دان بن چکی ہوتی ہے۔ اصل میں ناول کی شروعات لاہور منعقدہ ایک بین الاقوامی امن کانفرنس میں شرکت کے لئے سونیل بیلی کے آنے سے ہوتی ہے، اس دوران بیلی کو مسلح دہشت گرد اغواء کر لیتے ہیں۔ اس اغوا کی کارروائی کے بعد تھیو اپنی ماں کو چھڑانے پاکستان جاتا ہے اور اس میں کامیابی کی داستان مصنف گروبر نے اپنے ناول میں سموئی ہے۔

مائیکل گروبر کے دو ناول اب تک چھپ چکے ہیں ان میں ایک سن 2003 میں شائع ہونے والا ’ٹراپک آف نائٹ‘ Tropic of Night تھا اور دوسرا سن 2005 میں ’ویلی آف بونز‘ Valley of Bones تھا۔ ان کتابوں کو ناقدین نے مناسب پلاٹ اورپراثر انداز تحریر پر خاصا سراہا تھا۔ اُن کی کتابوں کو بنیادی طور پر دانشورانہ تھرلر کی کیٹگری میں رکھا جاتا ہے۔ اس کو پڑھتے ہوئے قاری کو لطف کے ساتھ ساتھ مشکل پلاٹ پر غور و فکر بھی کرنا ہوتا ہے۔ جادوئی دنیا کے حیرت کدوں سے لے کر مذہبی تجربات تک، سبھی کچھ گروبر کی کتابوں میں دستیاب ہے۔ اس لحاظ سے گروبر کے ناولوں کا کینوس بہت وسیع ہے۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: عاطف بلوچ