1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

دیوار برلن کے انہدام پر عالمی رہنماؤ ں کے پیغامات

بیشتر پیغامات میں جرمنی کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا گیا کہ سن 1989ء میں جرمن عوام نے جس ہمت اور حوصلے کا مظاہرہ کیا، اُس سے سرد جنگ کے خاتمے کے لئے راہ ہموار ہوئی اور یہ ثابت ہوا کہ عوامی جذبات کو دبایا نہیں جاسکتا ہے۔

default

Bundeskanzlerin Angela Merkel mit Hillary Clinton

تیس سے زائد ممالک کے سربراہان اس تاریخی موقع پر برلن میں موجود تھے۔

دیوار برلن کے انہدام کی بیسویں سالگرہ کے موقع پر جو عالمی رہنما جرمنی آئے تھے، ان میں سےامریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے جرمنی کے مشہور برانڈن برگ گیٹ پر سن 1989ء میں کے تاریخی واقعے کو یاد کرتے ہوئے کہا:’’عوام نے مضبوط اور خاردار تاروں کی اس دیوار کو گرا کر ایک نئی صبح اور کامیابی کی طرف اشارہ کیا، نہ صرف برلن کے لوگوں کے لئے، نہ صرف جرمن عوام کے لئے بلکہ پوری دنیا کے لئے!‘‘

دیوار برلن کے انہدام کی بیسویں سالگرہ کی خصوصی تقریبات میں روسی صدر دمیتری میدویدیف بھی شریک تھے۔ دیمتری مید ویدیف نے کہا کہ اس دیوار کو سیاسی رہنماوٴں نے نہیں بلکہ عوامی طاقت نے گرایا۔’’یہ دیوار نہ ہی سیاسی رہنماوٴں نے گرائی، نہ ہی فوجی طاقت نے، اس دیوار کو دنیا کی سب سے بڑی طاقت نے گرایا، برلن کے مردوں اور عورتوں کے نہ ٹوٹنے والے جوش، ہمت اور حوصلے نے!‘‘

Flash-Galerie Deutschland Mauerfall Jahrestag

1989ء کی ایک یادگار تصویر

فرانسیسی صدر نکولا سرکوزی نے بھی دیوار کے انہدام کے بیس سالہ جشن میں شرکت کی۔ سرکوزی نے بھی جرمن عوام کی ہمت اور حوصلے کی داد دی۔

برطانوی وزیر اعظم گورڈن براوٴن نے کہا کہ بیس سال پہلے نو نومبر سن 1989ء کو برلن کے لوگوں نے جو کچھ کیا، اُس پر دنیا کو ناز ہے۔’’سب سے پہلے مجھے برلن کے عوام کو یہ کہہ لینے دیجئے کہ پوری دنیا آپ پر فخر محسوس کرتی ہے۔ آپ نے دیوار گرائی اور آپ نے دنیا بدل دی۔‘‘

دیوار گرائے جانے کے جشن کی تقریبات میں یورپی یونین میں شامل تمام ستائیس ملکوں کے سربراہان بھی شریک تھے۔

نو نومبر سن 1989ء کو دیوار برلن کے انہدام کے تقریباً گیارہ ماہ بعد اکتوبر سن 1990ء میں مغربی اور مشرقی جرمنی باقاعدہ طور پر متحد ہوگئے تھے۔ تاہم بعض ناقدین کا کہنا ہے کہ اگرچہ مشرقی اور مغربی جرمنی کے لوگوں کے درمیان ظاہری دیوار بیس برس پہلے منہدم ہوئی تاہم ذہنی دیوار اب بھی کئی لحاظ سے موجود ہے۔

رپورٹ :گوہر نذیر

ادارت :عدنان اسحاق