1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

دیوار برلن کے انہدام سے سوویت یونین کا ٹوٹنا طے ہوا

دیوار برلن کے انہدام کی بیسویں سالگرہ کے موقع پر بھارت کے مختلف حصّوں میں بھی متعدد پروگرام ترتیب دئے گئے اور مختلف تقریبات منعقد ہوئیں۔ سب سے بڑا پروگرام جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں منعقد کیا گیا۔

default

یہ دیوار دونوں سابقہ جرمن ریاستوں کے درمیان تقسیم کی علامت تھی

ایک ہفتے تک چلنے والے ان پروگراموں کا اختتام9 نومبرکو ہوا۔ جرمن سفارت خانے اور جرمن انفارمیشن سینٹر کی طرف سے منعقد ان پروگراموں کے دوران تصویروں کی نمائش کی گئی‘ کئی تاریخی فلمیں دکھائی گئیں اور متعدد موضوعات پر مباحثوں کا اہتمام کیا گیا۔ ان مباحثوں میں مشرقی یورپ کے سفارت کاروں اور دانشوروں نے حصہ لیا۔”دیوار برلن کا انہدام اور بین الاقوامی سیاست پر اس کے اثرات “کے موضوع پر ایک مذاکرہ ہوا، جس میں جرمنی کے کرسچن ڈیموکریٹک پارلیمنٹری گروپ کے خارجہ پالیسی امور کے سابق ترجمان ڈاکٹر فرائڈ برٹ فلوگر کے علاوہ جرمن اور بھارتی صحافیوں اور دانشوروں نے حصّہ لیا۔

جب ہم نے جواہر لال یونیورسٹی میں شعبہ بین الاقوامی امور کے پروفیسر ڈاکٹر کمل مترا چنائے سے پوچھا کہ دیوار برلن کے انہدام سے عالمی سطح پر کیا اثرات مرتب ہوئے، تو انہوں نے کہا:”دیوار برلن کے گرنے سے سوویت یونین کا ٹوٹنا تقریباً طے ہوگیا تھا اور پھر پورا سوشلسٹ بلاک کمیونزم سے الگ ہوگیا۔“

Dominosteine als Symbol des Mauerfalls vor Brandenburger Tor Flash-Galerie

دیوار برلن کے انہدام کی بیسویں سالگرہ کے موقع پر رنگا رنگ تقریبات منعقد ہوئیں

جواہر لال نہرو یونیورسٹی کو بھارت میں کمیونسٹوں کے دانشورانہ مرکز کی حیثیت حاصل ہے۔ ڈاکٹر کمل مترا چنائے کا کہنا ہے کہ دیوار برلن کے گرنے سے بھارت میں کمیونسٹ تحریکوں پر بھی اثر پڑا۔ اس کے علاوہ جنوبی ایشیا پربھی اس کے خاصے اثرات مرتب ہوئے۔

"سوویت یونین طے کیا کہ وہ افغانستان سے اپنی فوجیں واپس بلا لے گا۔ اس سے پاکستان کو بہت فائدے ہوا کیونکہ سوویت یونین کے بھارت سے انتہائی قریبی تعلقات تھے۔“

پروفیسر چنائے کی رائے میں دیوار برلن کے انہدام سے بھارت کی خارجہ پالیسی پر بھی اثر پڑا۔ بھارت، امریکہ کی گود میں چلا گیا اور اس نے ناوابستہ تحریک کو پس پشت ڈال دیا۔

’’بھارت نے سوچا کہ وہ خود ہی ایک بڑی طاقت بن جائے۔ اس کے لئے اس نے امریکہ سے قریبی تعلقات قائم کرنا ضروری سمجھا اور چونکہ اسرائیل، امریکہ کا سب سے قریبی اتحادی ہے، اس لئے بھارت کے اسرائیل کے ساتھ بھی تعلقات مضبوط ہوگئے۔ اور وہ ناوابستہ تحریک سے بالکل الگ ہوگیا۔‘‘

رپورٹ: افتخار گیلانی، نئی دہلی

ادارت: گوہر نذیر گیلانی