1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

دیوار برلن: نئی نسل کے لئے محض ایک تاریخی واقعہ

نو نومبر انیس سو نواسی کے دن دیوار برلن گرا دی گئی تھی۔ ان بیس سالوں میں جرمنی میں پروان چڑھنے والی نئی نسل کو اس بارے میں زیادہ علم نہیں اور نوجوان اسے زیادہ تر محض ایک تاریخی واقعہ سمجھتے ہیں۔

default

دیوار برلن کے انہدام کے بعدجوان ہونے والی نئی نسل اس تاریخی واقعے میں زیادہ دلچسپی نہیں لیتی

نو نومبر انیس سو نواسی کا دن جرمنی کے ساتھ ساتھ پوری دنیا کے لئے ایک تاریخی دن تھا۔ اس دن دیوار برلن گرا دی گئی تھی۔ پیر کے روز اس تاریخی واقعے کو بیس سال ہو گئے۔

یورپ سمیت دنیا بھر میں 1989ء کو تبدیلی کا سال کہا جاتا ہے۔ دونوں جرمن ریاستوں کے اتحاد کے ساتھ ہی مشرقی یورپ میں سوشلسٹ آمروں کی حکمرانی کا دور بھی ختم ہوا۔ ٹھیک دو عشرے قبل دیوار برلن ماضی کا حصہ بن گئی تھی۔ تب سے اب تک جرمنی میں ایک نئی نسل جوان ہو چکی ہے۔ وہ اس بارے میں کیا سوچتی ہے؟ یہ واقعہ اس کے لئے کتنی اہمیت کا حامل ہے؟ دیوار برلن کے انہدام کے بعد پروان چڑھنے والوں میں سے ایک ہیں عذرا شمع۔

60 Jahre Bundesrepublik Mauerfall

عذرا شمع کا تعلق دارالحکومت برلن کے علاقے کروئس بیرگ سے ہے۔ برلن کے اس علاقے میں زیادہ تر تارکین وطن آباد ہیں۔ عذرا نے ابھی کچھ عرصہ پہلے ہی انٹرمیڈیٹ کا امتحان پاس کیا ہے۔ عذرا جب پیدا ہوئی تو دیواربرلن کا وجود نہیں تھا۔ کروئس بیرگ مغربی برلن کے مشرقی حصے میں ہے۔ جس وقت دیواربرلن ابھی قائم تھی، وہاں ترک خاندانوں کے ساتھ ساتھ، بائیں بازو سے تعلق رکھنے والوں کی بھی ایک بڑی تعداد آ کر آباد ہو گئی تھی۔ عذرا کی پیدائش سے چند ہی روز قبل نومبر1989ء میں یہ دیوار گرا دی گئی تھی۔ پھرمشرقی اورمغربی برلن ایک ہوگئے۔ مشرقی اور مغربی حصے سے تعلق رکھنے والے جرمن باشندے ایک دوسرے سے ملے۔ عذرا سے اگر پوچھا جائے کہ کیا برلن کبھی دو حصوں میں تقسیم تھا، تو یہ بات اسے کافی عرصے تک معلوم ہی نہیں تھی۔ اس نے کہا کہ وہ چھٹی جماعت میں پہلی مرتبہ مشرقی حصے میں گئی تھیں۔ اس وقت اسے لوگوں کے رویے میں کوئی فرق محسوس نہیں ہوا تھا۔ لیکن اب وقت کے ساتھ ساتھ اسے بہت کچھ سمجھ آ گیا ہے۔

Berliner Mauer West-Berlin 1989

دیورا برلن 1989ء میں اپنے انہدام سے کچھ دیر قبل

اسکول میں عذرا کو دیواربرلن کے قیام اور انہدام کے بارے میں بتایا گیا۔ تاہم پہلی مرتبہ مشرقی برلن کے بارے میں عذرا کو گزشتہ برس ہی پتا چل سکا، جب وہ اپنے ایک دوست کے گھرگئی، جوشہر کے جنوب مشرقی علاقے کیوپینک میں رہتا ہے۔ اس کے بقول کیوپینک کا ماحول کافی مختلف تھا۔ وہاں کی سڑکوں پر بہت کم غیر ملکی نظر آتے ہیں۔ تاہم شراب نوشوں اورغیر مہذب افراد کی تعداد مغربی برلن سے زیادہ ہے۔

عذرا شمع کی والدہ ترک ہیں اور والد کا تعلق لبنان سے ہے۔ مشرقی اور مغربی برلن کے فرق کے مقابلے میں وہ برلن کے ترک، عرب اورجرمن نسل کے باشندوں کی ذہنیت میں فرق کے بارے میں زیادہ جانتی ہے۔ عذرا کے بقول وہ جب بھی کسی ترک نسل کے باشندے کی دکان میں جاتی ہے تو وہ اس وجہ سے اسے طعنہ دیتا ہے کہ اسے ترک زبان پرعبور حاصل نہیں ہے۔ وہ کہتی ہے کہ اسے جرمن باشندوں سے ملنا اچھا لگتا ہے۔ اس نوجوان خاتون کے بقول دیوار برلن کا خاتمہ اور جرمن ریاستوں کا ایک ہو جانا اس کے لئے محض ایک تاریخی واقعہ ہے۔

رپورٹ: عدنان اسحاق

ادارت: مقبول ملک

ملتے جلتے مندرجات