1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

دیوار برلن ، منقسم جرمنی کی نشانی

نومبر انیس سو نواسی میں اپنے خاتمے کے ساتھ جرمنی کے دوبارہ اتحاد کی وجہ بننے والی دیوار برلن کی تعمیر تیرہ اگست انیس سو اکسٹھ کو شروع کی گئی تھی۔ یوں آج اس واقعے کے ٹھیک اڑتالیس برس پورے ہوگئے ہیں۔

default

دیوار برلن عشروں تک جرمنی کی ریاستی تقسیم کی علامت بنی رہی

سرد جنگ کے دور میں، دونوں جرمن ریاستوں اور برلن شہر کے دونوں حصوں کو ایک دوسرے سے اس طرح علیحدہ کر دیا گیا کہ یہی دیوار برلن عشروں تک جرمنی کی ریاستی تقسیم کی علامت بنی رہی۔

ساٹھ کی دہائی کے شروع میں چاروں طرف سے مشرقی جرمنی کی کمیونسٹ ریاست میں گھرے، برلن شہر کے مغربی حصے کی مشرقی برلن سے علیحدگی کو جب ایک طویل دیوار کی تعمیر کی صورت میں مستقل بنانے کی کوشش کی گئی، تو تب امریکہ نے اس پر بہت محتاط رویہ ظاہر کیا تھا۔ اس لئے کہ دیوار برلن کی تعمیر سے بین الاقوامی قوانین کی رو سے مغربی برلن کی حیثیت متاثر نہیں ہوئی تھی۔

سابقہ مشرقی جرمن ریاست نے برلن میں یہ دیوار اس لئے تعمیر کی تھی کہ مشرقی حصے کے شہریوں کو فرار ہو کر مغربی برلن، یعنی وفاقی جمہوریہ جرمنی میں پناہ لینے سے روکا جا سکے۔ اس لئے کہ 1961ءکے پہلے صرف سات مہینوں میں جرمن ڈیموکریٹک ریپبلک سے فرار ہو کر مغربی جرمنی میں پناہ لینے والے شہریوں کی تعداد ایک لاکھ 50 ہزار سے زائد رہی تھی، اور یہ عمل مشرقی جرمنی کی ریاستی قیادت کے لئے سیاسی شرمندگی کا باعث بن رہا تھا۔ مشرقی جرمن ریاست کے قیام سے لے کر اگست 1961ء تک جو مشرقی جرمن شہری مغربی جرمنی میں پناہ گزین ہوئے، ان کی مجموعی تعداد بھی تین ملین کے قریب رہی تھی۔

Berlin DDR Mauerbau Flash-Galerie

دیوار برلن کی تعمیر تیرہ اگست انیس سو اکسٹھ کو شروع کی گئی تھی

1960ء کے آخر میں امریکی صدر منتخب ہونے والے جان ایف کینیڈی نے جب جون 1963ء میں جرمنی کا دورہ کیا، تو مغربی برلن میں لاکھوں شہریوں کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بڑے فخر سے اپنا یہ تاریخی لیکن علامتی جملہ کہا تھا کہ میں بھی برلن کا ایک شہری ہوں۔

اٹھائیس برس سے بھی زیادہ عرصے تک موجود رہنے والی دیوار برلن کو مختلف جگہوں سے عبور کرنے کی کوشش میں مشرقی جرمنی سے مغربی برلن میں داخلے کے خواہش مند کُل کم ازکم 136 افراد ہلاک ہوئے۔ مشرقی جرمن شہریوں میں سے ایسی پہلی موت اِیڈا سِیک مان نامی ایک خاتون کی تھی جو اس دیوار کی تعمیر کے محض چند روز بعد ہلاک ہوئی، جبکہ دیوار برلن کو عبور کرنے کی کوشش میں ہلاک ہونے والا آخری مشرقی جرمن شہری ایک بیس سالہ نوجوان کرِس گُوفروئے تھا جو فروری 1989ء میں مشرقی جرمن بارڈر گارڈز کی گولیوں کا نشانہ بنا تھا۔

عشروں تک لاکھوں جرمن گھرانوں کی جبری تقسیم کا باعث بننے والی اور سرد جنگ کے زمانے میں آہنی پردے کی علامت بن جانے والی دیوار برلن نو نومبر 1989ءکے روز گرا دی گئی اور اسی دیوار کا خاتمہ دونوں جرمن ریاستوں کے دوبارہ اتحاد کے عمل کی ابتداء بنا تھا۔

رپورٹ: مقبول ملک

ادارت : عاطف بلوچ