1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

دینا واڈیہ کی وفات، سوشل میڈیا صارفین کے تاثرات

دینا واڈیہ کے انتقال پر پاکستان اور بھارت میں کئی اہم شخصیات کی جانب سے افسوس اور دکھ کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ کچھ مبصرین کی رائے میں واڈیہ کے انتقال سے تاریخ کا ایک اہم باب بند ہو گیا ہے۔

پاکستان کے بانی محمد علی جناح کی  بیٹی دینا واڈیہ جمعرات کےد ن 98 سال کی عمر میں نیویارک میں انتقال کر گئی ہیں۔ واڈیہ محمد علی جناح اور ان کی اہلیہ رتن بائی کی اکلوتی اولاد تھیں۔ قیام پاکستان کے بعد محمد علی جناح پاکستان منتقل ہو گئے تھے۔ ان کی بیٹی نے ایک اہم پارسی خاندان سے تعلق رکھنے والے تاجر سے شادی کر لی تھی اور بھارت رہنے کا فیصلہ کیا تھا۔ سن 1948 میں بانی پاکستان کے انتقال کے موقع پر ان کی بیٹی اپنے والد کی تدفین پر پاکستان آئی تھیں۔

دینا واڈیہ 15 اگست 1919 کو  پیدا ہوئی تھیں۔ انہوں نے آخری مرتبہ سن 2004 میں پاکستان کا دورہ کیا تھا۔ اس دورے کے دوران وہ کراچی میں ’مزار قائد‘ بھی گئی تھیں۔ اور میڈیا رپورٹس کے مطابق انہوں نے اس موقع پر وزٹرز بک میں لکھا تھا کہ وہ دعا گو ہیں کہ ان کے والد کا پاکستان کے لیے دیکھا گیا خواب پورا ہو۔  ان کے انتقال کی خبر کے بعد پاکستان میں ٹوئٹر پر دینا واڈیہ کا نام ٹرینڈ کر رہا ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمان نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر لکھا،’’ جناح کی غیر معمولی زندگی سے اب ہمارے لیے بہت کم ہی بچا ہے۔‘‘

پاکستانی صوبے پنجاب کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف، پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اور پاکستان کی دیگر اہم اور سماجی شخصیات نے بھی دینا واڈیہ کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا۔

 ریڈیو پاکستان کے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر سن 2004 میں دینا واڈیہ کے دورہء پاکستان کی تصاویر شائع کی گئیں۔

DW.COM