1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

دینارا سافینا عالمی نمبر ایک نہیں رہیں

ٹینس کی روسی کھلاڑی دینارا سافینا دوہا میں جاری ڈبلیو ٹی اے چیمپیئن شپ سے باہر ہو گئی ہیں، جس کے بعد عالمی نمبر ایک کا اعزاز امریکی ٹینس اسٹار سیرینا ویلیئمز کو حاصل ہو گیا ہے۔ تاہم اس کا اعلان آئندہ پیر کو ہو گا۔

default

روسی کھلاڑی دینارا سافینا

ٹینس میں رواں برس کے لئے خواتین کے آخری اہم ترین ٹورنامنٹ WTA ویمن چپیمپیئن شپ کے ایک میچ میں عالمی نمبر ایک دینارا سافینا کو کمر کی شدید تکلیف پیدا ہونے کے باعث نہ صرف میچ ختم کرنا پڑا بلکہ وہ کم از کم چھ ہفتوں کے لئے ہر قسم کی کھیل کی سرگرمیوں سے باہر ہو گئیں ہیں۔

وہ قطر کے دارالحکومت دوہا میں جاری چیمپیئن شپ کے وائٹ گروپ میں اپنا پہلا میچ سیربیا کی ژالینا جانکووچ کے خلاف کھیل رہی تھیں۔ یہ میچ کُل تیرہ منٹ تک جاری رہا۔ سافینا کی جگہ اب ٹورنامنٹ کے

Dinara Safina

سافینا میچ سے دستبردار ہوئیں تو ان کی آنکھوں میں آنسو تھے

لئے رکھی گئی پہلی متبادل ٹینس خاتون Vera Zvonareva کو مل گئی ہے۔ اِن کا تعلق بھی روس سے ہے۔ وہ اپنا افتتاحی میچ جمعرات کو کھیلیں گی۔

اب امکان ہے کہ سافینا کی واپسی آئندہ سال کے پہلے گرینڈ سلیم ٹورنامنٹ آسٹریلئن اوپن کے بعد ہوگی۔ وہ اس سے پہلے فٹ بھی ہو جاتی ہیں تو تربیتی مرحلے کو مکمل کرنے تک آسٹریلئن اوپن کا وقت آ پہنچے گا۔

دینارا سافینا نے بدھ کے کھیل کے بعد بتایا کہ وہ گزشتہ تین ماہ سے کمر کی تکلیف میں مبتلا ہیں۔ یہ تکلیف اُن کو جولائی میں سلووانیہ میں ٹورنامنٹ کے دوران ہوئی تھی۔ اُن کے مطابق اُن کی کمر کے نچلے حصے کے عضلات میں شدید کھچاؤ کے باعث بہت درد کی کیفیت ہے۔ اگر وہ دوہا میں منعقدہ ٹورنامنٹ اپنی عالمی نمبر ایک کی پوزیشن کو بچانے کی کوشش میں مزید شرکت کرنا چاہتیں تو اُن کو کورٹی زون کے انجکشن لگوانے پڑتے جس سے انہوں نے اجتناب کیا ہے۔

دوسری جانب اب دینارا سافینا کے زخمی ہو جانے کے بعد ٹینس کی عالمی رینکنگ میں پہلے مقام کا قضیہ بھی ختم ہو گیا ہے۔ موجودہ ٹورنامنٹ کے اختتام پر یقینی طور پر سیرینا ولیئمز دوبارہ عالمی نمبر ایک کے منصب پر براجمان ہو جائیں گی۔ اِس کے ساتھ ساتھ وہ رواں سال کو بھی بطور عالمی نمبر ایک ہی ختم کریں گی اور عالمی سطح پر بہرحال یہ ایک بڑا اعزاز تصور کیا جاتا ہے۔

دوہا میں جاری ویمن ٹینس ایسوسی ایشن کی چیمپیئن شپ میں امریکی کھلاڑیوں سیرینا ولیئمز اور وینس ولیئمز کے درمیان کانٹے دار میچ کھیلا گیا اور اِس تین سیٹ پر محیط میچ میں سیرینا ولیمز نے کامیابی حاصل کی۔ ولیئمز سسٹرز کے درمیان میچ خاصا برابری کی سطح پر کھیلا گیا۔ تیسرے سیٹ میں وینس ولیئمز نے ہمت دکھائی اور ہارتے ہارتے میچ میں اپنی پوزیشن کو مضبوط کرتے ہوئے جیت کے قریب پہنچ گئیں۔ حالانکہ ابتداء میں اُن کے کھیل میں وہ تیزی نہیں تھی جس کے لئے وہ مشہور ہیں۔ یہ تیزی میچ کے آخری لمحات میں دکھائی دی۔ اِس کے باوجود انہوں نے اپنی ان فارم بہن کے لئے مقابلے کو خاصا مشکل بنایا۔

تیسرے سیٹ میں وہ گیم جس کو جیت کر سیرینا ولیئمز میچ جیت

Serena Williams Australia Open Gewinnerin Einzel Frauen

عالمی نمبر ایک کا اعزاز سیرینا ویلیئمز کے پاس چلا جائے گا

سکتی تھیں اُس میں اُن کی جانب سے مکمل توجہ کا فقدان دکھائی دے رہا تھا۔ اِس دوران سیرینا ولیئمز نے کچھ غیر ضروری شارٹس بھی کھیلے جو میچ میں طوالت کا باعث بنے۔ ٹائی بریک پر سیرینا ولیئمز نے کامیابی حاصل کی۔

و ینس ولیئمز مسلسل دو میچوں میں شکست کے بعد سیمی فائنل کے لئے کوالیفائی کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہی ہیں۔ اِس طرح وہ ویمن ٹینس ایسوسی ایشن چیمپیئن شپ کا دفاع کرنے میں ناکام رہی ہیں۔مرون گروپ میں روسی کھلاڑیوں ایلینا ڈیمینٹیوا اور سویٹلانا کزنٹسووا کے درمیان میچ ایک طرح کا کوارٹر فائنل اہمیت کا حامل ہو گا کیونکہ کزنٹسووا کو اگر شکست ہو گئی تو وہ بھی ٹورنامنٹ سے باہر ہو جائیں گی۔

دوسری جانب وائٹ گروپ کے ایک میچ میں یو ایس اوپن کے فائنل تک رسائی حاصل کرنے والی ڈنمارک کی کھلاڑی کیرولین ووصنیاکی نے بیلا روس کی وکٹوریا آذارینکا کو ایک سخت مقابلے کے بعد ہرا دیا۔ ووصنیاکی نے میچ کے پہلا سیٹ میں انتہائی مایوس کُن کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا۔ دوسرے سیٹ میں وہ بہتر کھیل پیش کر سکیں اور تیسرا سیٹ اُنہوں نے ٹائی بریک پر جیتا۔ وکٹوریا آذارینکا نے پہلے میچ میں سیربیا کی ژالینا جانکووچ کو ہرایا تھا۔

ماہرین کا خیال ہے کہ وائٹ گروپ سے وکٹوریا آذارینکا اور کیرولین ووصنیاکی کے سیمی فائنل پہنچنے کے قوی امکانات ہیں جبکہ مرُون گروپ سے سیرینا ولیمز کا سیمی فائنل کے لئے راستہ تقریبا صاف ہو گیا ہے۔ اِس گروپ سے دوسری کھلاڑی کے طور پر ایلینا ڈیمینٹیوا کی جیت کا امکان زیادہ ہے۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: ندیم گِل

DW.COM