1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

دہلی گینگ ریپ کے کمسن ملزم کی رہائی کا فیصلہ

بھارت کی عدالت نے سن دو ہزار بارہ کے دہلی گینگ ریپ واقعے میں سزا یافتہ کمسن ملزم کو، جو اب بیس برس کا ہو چکا ہے، کو رہا کر دینے کا فیصلہ سنایا ہے۔

سن دو ہزار بارہ میں یہ شخص پانچ دیگر ملزمان کے ہمراہ دہلی کی ایک بس میں ایک نوجوان خاتون کے ساتھ ریپ اور اس کے قتل کے جرم کا مرتکب قرار دیا گیا تھا۔ دیگر پانچ مجرمان میں سے چار کو پھانسی کی سزا سنائی جا چکی ہے جبکہ ایک مجرم جیل میں ہلاک ہوا پایا گیا تھا۔ اس گینگ ریپ اور قتل کی خبر نے عالمی سطح پر دہلی میں خواتین کے خلاف ہونے والے جرائم کی طرف عالمی توجہ مبذول کروائی تھی۔

یہ کمسن ملزم دہلی کے ایک اصلاحی مرکز میں تین برس تک حراست مکمل کر چکا ہے۔ حراستی سینٹر سے رہائی پانے کی خبر تب منظر عام پر آئی جب بھارتیہ جنتا پارٹی کے سوبرامنین سوامی نے اس شخص کی رہائی کے خلاف ایک قانونی درخواست جمع کروائی۔

اس حوالے سے حکومت کے وکلاء کا کہنا ہے کہ اب اس ملزم کو اصلاحی سینٹر میں مزید نہیں رکھا جا سکتا کیونکہ قانون کے تحت ملزم اپنی سزا مکمل کرچکا ہے۔ حکومتی وکیل انیل سونی نے عدالت کے باہر میڈیا کے نمائندگان سے بات چیت کرتے ہوئے کہا، ’’اس شخص کی رہائی کے بعد فلاحی مرکز اس پر نظر رکھے گا۔‘‘

گینگ ریپ کا شکار ہونے والی نوجوان خاتون کے والدین بھی اس شخص کی رہائی کے خلاف ہیں اور اسے معاشرے کے لیے ایک خطرہ قرار دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے، ’’عدالت نے ہمیں بہت مایوس کیا ہے، ہمیں انصاف نہیں ملا۔‘‘

قبل ازیں اس کمسن مجرم کو دی جانے والی سزا کو عوام کی طرف سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا اور اس سزا کو ناکافی قرار دیا گیا تھا۔ کئی سیاست دانوں اور وکلاء نے بھارت کے کمسن افراد کے لیے قانون میں قتل اور ریپ کے مجرموں کی عمر کی حد کو کم کرنے کی تجویز پیش کی تھی۔ 2012ء کے دہلی ریپ کیس کے بعد بھارت میں شدید احتجاج اور ردعمل کے باعث بھارت کے اندر ریپ سے متعلق قوانین سخت کر دیے گئے تھے۔