دہلی کے اسٹریٹ چلڈرن کا مقبول ہوتا ہوا ’بالک نامہ‘ | معاشرہ | DW | 14.04.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

دہلی کے اسٹریٹ چلڈرن کا مقبول ہوتا ہوا ’بالک نامہ‘

جوتی کُماری کا شمار بھی نئی دہلی کے ان ہزاروں بے گھر بچوں میں ہوتا ہے، جو سڑکوں اور فٹ پاتھوں پر اپنی زندگیاں گزارنے پر مجبور ہیں۔ ان بچوں کو کن کن مسائل کا سامنا ہے شاید ہی جوتی کے علاوہ کوئی زیادہ بہتر جانتا ہو۔

سولہ سالہ جوتی کماری نے کبھی بھی کسی اسکول سے تعلیم حاصل نہیں کی لیکن نئی دہلی میں بچوں کے نکلنے والے اخبار میں اس کا کردار انتہائی اہم ہے۔ یہ اخبار ان بچوں کی آواز بن چکا ہے، جو بے گھر ہیں اور انہیں مسلسل مسائل کا سامنا رہتا ہے۔

ایک ٹیبل کے گرد جمع یہ بے گھر بچے اپنے آئندہ کے ایڈیشن کے لیے پلاننگ کر رہے ہیں۔ جوتی کماری کا نیوز ایجنسی اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’اب بالک نامہ (بچوں کی آواز) کے ستر رپورٹر ہو گئے ہیں۔ ہم ان سے اسٹوریاں جمع کرتے ہیں، ان کی تصدیق کی جاتی ہے اور پھر ہم میں سے کوئی ایک انہیں ٹائپ کرنا شروع کر دیتا ہے۔ اس کے بعد یہ فیصلہ کیا جاتا ہے کہ کون سی خبر کس صفحے پر آئے گی اور پھر اسے پرنٹ کرنے کے لیے بھیج دیا جاتا ہے۔‘‘

اس اخبار میں پُلوں کے نیچے رہنے والوں سے لے کر بڑے خاندانوں کی کہانیاں بیان کی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ بچوں کی کم عمری میں شادیاں، بچوں کے ساتھ ہونے والے تشدد، جنسی زیادتی اور منشیات کے استعمال جیسے موضوعات کو بھی زیر بحث لایا جا سکتا ہے۔

بچوں کے اس اخبار کی سب سے بڑی اسٹوری ان پولیس اہلکاروں سے متعلق تھی، جو ریلوے ٹریک پر ہلاک ہونے والوں یا پھر خودکشی کرنے والوں کی باقیات بے گھر بچوں سے اٹھواتے تھے۔ تاہم اب حکام نے پولیس والوں کی یہ پریکٹس بند کروا دی ہے۔

کماری کے والد بیمار بھی تھے اور شراب کے بھی عادی تھے۔ اسے اپنے پانچ بہن بھائیوں کے لیے کھانا خریدنے کے لیے بعض اوقات بھیک بھی مانگنا پڑتی تھی اور کچرا بھی اٹھانا پڑتا تھا۔ سن دو ہزار دس میں اس کی ایک اتفاقیہ ملاقات ایک غیر سرکاری تنظیم چیتنا کی ایک استانی سے ہوئی اور اسی ملاقات نے جوتی کُماری کو نئی امید دلائی، ’’میں اس ٹیچر سے بہت متاثر ہوئی اور مجھے تعلیم کی اہمیت کا بھی پتہ چلا۔‘‘ وہ خاتون ٹیچر جوتی کُماری کو چیتنا تنظیم کے اس شیلٹر ہاؤس لے آئی، جو بے گھر بچوں کے لیے بنایا گیا ہے۔

یہ غیر سرکاری تنظیم دہلی کے تقریباﹰ دس ہزار بے گھر بچوں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے اور انہیں تعلیم بھی فراہم کرتی ہے۔ اسی تنظیم نے جوتی کماری کو جرنلزم ورکشاپ میں داخل کروایا اور اس کے چند ہی ہفتے بعد اسے انٹرویوز کرنے کا کام سونپ دیا گیا۔

بے گھر بچوں کے اس اخبار کا آغاز سن 2002ء میں کیا گیا تھا اور یہ سہ ماہی بنیادوں پر شائع کیا جاتا تھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور اب یہ ماہانہ بنیادوں پر شائع کیا جاتا ہے جبکہ اس کی دس ہزار کاپیاں فروخت ہوتی ہیں۔