1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

’دہشت گرد کوئی مہاجر نہیں بلکہ یورپ ہی میں جوان ہوئے تھے‘

جرمنی کے وفاقی وزیر انصاف نے خبردار کیا ہے کہ برسلز اور پیرس میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات کے بعد دہشت گردی کو مہاجرین کی آمد سے نہ جوڑا جائے کیوں کہ ان حملوں میں ملوث دہشت گرد یورپ میں ہی پیدا ہونے والے مسلمان تھے۔

جرمن وزیر انصاف ہائیکو ماس کا کہنا ہے کہ برسلز میں ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کو یورپ میں نئے آنے والے تارکین وطن اور مہاجرین سے نہ جوڑا جائے۔

درجنوں پاکستانی تارکین وطن یونان سے ترکی ملک بدر

رضاکارانہ طور پر واپس جاؤ، بائیس سو یورو ملیں گے

ماس نے ایک جرمن اخبار کو دیے گئے اپنے انٹرویو میں کہا، ’’حالیہ مہینوں کے دوران خونریز دہشت گردی کے واقعات میں ملوث افراد یورپ ہی میں پیدا ہونے اور یہیں پرورش پانے والے دہشت گرد تھے۔ وہ مہاجرین نہیں تھے۔‘‘

جرمنی کی کلیسائی نیوز ایجنسی کی دارالحکومت برلن سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق وفاقی وزیر انصاف کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر یورپ اپنی سرزمین پر دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنا چاہتا ہے تو یورپ میں متوازی معاشروں کو پروان چڑھنے سے روکنا پڑے گا۔

ہائیکو ماس کے مطابق، ’’برسلز کے علاقے، مولن بیک جیسے محلے بننے ہی نہیں دینا چاہییں۔‘‘ ماس نے اس امر پر بھی زور دیا کہ یورپ ہی میں پیدا ہونے والے ایسے نوجوان، جو ممکنہ طور پر ہاتھوں سے نکل کر شدت پسندی کی جانب راغب ہو سکتے ہیں، کے بارے میں پہلے ہی سے پالیسی ترتیب دی جانا چاہیے تاکہ وہ دہشت گردی کی جانب راغب نہ ہوں۔

وفاقی وزیر انصاف کا اس بارے میں مزید کہنا تھا، ’’کسی شخص کے لیے بھی ہمارے آزاد اور جمہوری یورپی معاشرے اور اقدار کی نسبت اسلام پسندوں کی دہشت گردی یا ان کا پاگل پن پر کشش نہیں ہونا چاہیے۔‘‘

جرمن وزیر انصاف یورپ میں دائیں بازو کی شدت پسند تنظیموں اور افراد کے بھی شدید ناقد ہیں۔ جرمنی میں دائیں بازو کی شدت پسندی پر قابو پانے کے لیے ماس نے صوبائی اور وفاقی سطح پر مربوط اقدامات کی ضرورت پر زور دیا تھا۔

جرمنی میں مہاجرین اور غیر ملکیوں کے خلاف کیے گئے مختلف حملوں کے بارے میں ماس نے گزشتہ ماہ کہا تھا، ’’ہمیں نفرت کی بنیاد پر غیر ملکیوں پر کیے جانے والے حملوں سے متعلق مقدمات کو جلد از جلد نمٹانے کی ضرورت ہے تا کہ مجرموں کو قرار واقعی سزا دی جا سکے۔‘‘

یونان میں پھنسے پاکستانی وطن واپسی کے لیے بیقرار

جرمنی میں اب تک کتنے پاکستانیوں کو پناہ ملی؟

DW.COM