1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

دہشت گردی کے منصوبے پر پاکستانی نژاد شہری کے لیے سزائے قید

امریکہ میں پاکستانی نژاد امریکی شہری فاروق احمدکو دہشت گردی کے ایسے منصوبے میں معاونت پر 23 برس قید کی سزا سنا دی گئی ہے، جس کے بارے میں اس کا خیال تھا کہ وہ دہشت گرد تنظیم القاعدہ نے بنایا۔

default

امریکی حکام کے مطابق فاروق احمد کا خیال تھا کہ دہشت گردی کے منصوبے کے لیے جن لوگوں سے اس کا رابطہ تھا، وہ القاعدہ سے وابستہ تھے۔ اس نے انہیں امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں زیر زمین اسٹیشنوں کو نشانہ بنانے کے لیے اہم معلومات فراہم کیں۔

امریکی شہریت رکھنے والا فاروق احمد واشنگٹن کے نواح میں ورجینیا کا رہائشی ہے۔ اس نے قبول کیا کہ بم حملوں میں مدد دینے کے لیے اس نے گزشتہ برس اسٹیشنوں کی تصویریں بنائیں۔

حکام کے مطابق پینتیس سالہ فاروق نے دہشت گرد تنظیم کی معاونت اور دہشت گردی کی کارروائی کے لیے معلومات کے حصول کے الزامات قبول کیے ہیں۔

ایک وفاقی جج نے فاروق احمد کی جیل سے رہائی کے بعد پچاس برس تک اس کی نگرانی کا فیصلہ بھی سنایا ہے، جو اس کے وکلاء اور استغاثہ کے درمیان معاہدے کا نتیجہ ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اسے اسٹنگ آپریشن کے نتیجے میں گرفتار کیا گیا۔ ان کا کہنا ہے، ‘تفتیش کے دوران کسی بھی وقت شہریوں کو خطرے میں نہیں ڈالا گیا۔ ایف بی آئی اس کی تمام سرگرمیوں سے آگاہ تھی اور اس کی گرفتاری تک اس پر نگاہ رکھی گئی۔’

Faisal Shahzad

پاکستانی نژاد امریکی شہری فیصل شہزاد کو ٹائمز اسکوائر کے ناکام بم حملے میں ملوث قرار دیا گیا

فاروق احمد کو گزشتہ برس اکتوبر میں گرفتار کیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس نے زیر زمین اسٹیشنوں کے سکیورٹی آپریشنز کا بغور مطالعہ کیا، تصاویر بنائیں اور القاعدہ کے جعلی کارکنوں کو نقشے فراہم کیے۔

امریکی محکمہ انصاف نے ایک بیان میں کہا، ‘احمد نے یہ تجاویز بھی دیں کہ ارلنگٹن میں میٹرو ریل اسٹینشوں میں ٹرینوں پر دھماکہ خیز مواد کہاں رکھنے سے زیادہ سے زیادہ ہلاکتیں ہو سکتی ہیں۔ ’

فاروق احمد 1993ء میں پاکستان سے امریکہ جا بسا تھا۔ گزشتہ برس فاروق کی گرفتاری پر ایف بی آئی نے کہا تھا کہ وہ افغانستان میں امریکہ کے خلاف لڑنے کی امید پر اسلحہ استعمال کرنا سیکھ چکا تھا۔ ایف بی آئی کے مطابق اس نے یہ بات القاعدہ سے منسلک افراد کے بھیس میں رابطہ کرنے والے امریکی اہلکاروں کو بتائی تھی۔

رپورٹ: ندیم گِل/خبررساں ادارے

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM

ویب لنکس