1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

دہشت گردی کے سائے میں سانس لیتا فرانس، آنکھوں دیکھا احوال

یورپ بھر میں دہشت گردی کا سب سے زیادہ شکار ہونے والے ملک فرانس میں سیاحوں کی تعداد کم ہو گئی ہے۔ ڈی ڈبلیو کے مارسیل فرسٹیناؤ نے بہرحال اپنی تعطیلات فرانس ہی میں گزاری ہیں اور پھر اپنے مشاہدات قلم بند کیے ہیں۔

گرمیوں کی تعطیلات فرانس میں؟ گزشتہ سال نومبر میں پیرس کے دہشت گردانہ واقعات کے بعد سے ہی بہت سے لوگوں کے لیے یہ تصور محال تھا۔ باقی ماندہ لوگوں کا شک تب دُور ہو گیا، جب فرانس کے قومی دن کے موقع پر نِیس میں ایک تیونسی باشندے کے ٹرک حملے میں چوراسی جانیں چلی گئیں۔ یہ واقعہ سیاحت کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوا کیونکہ زیادہ غیر ملکی سیاح پیرس اور نِیس ہی کا رُخ کرتے ہیں۔

مَیں اس سال جولائی کے اواخر سے بریٹانیے میں تھا، جہاں پہنچتے ہی یہ خبر ملی کہ مسلمان دہشت گردوں نے ایک چرچ میں ایک پادری کو بے رحمی سے قتل کر دیا۔ میں نے 2012ء میں اپنی تعطیلات اسی علاقے میں گزاری تھیں۔ تب میری پہلی سوچ یہ تھی کہ اب دہشت گردی دیہی علاقوں تک بھی جا پہنچی ہے۔

اپنے فرانسیسی دوستوں کے ساتھ میری گفتگو میں بنیادی اہمیت دہشت گردی کی وجوہات اور اُس کے انسداد کو حاصل رہی، نہ کہ نومبر کے حملوں کے بعد سے نافذ ہنگامی حالت کو یا پھر نیشنل گارڈز کو، جس کے لیے چوراسی ہزار ریزرو فوجیوں کو تربیت دی جائے گی۔ مجھے اپنے فرانسیسی دوستوں کا یہ پُر سکون طرزِ عمل پسند آیا، جو نہیں چاہتے کہ کوئی سیاح اپنی گمراہ کُن سوچ سے اُن کا سکون غارت کرے یا اُن سے زندگی کی خوشیاں چھینے۔

اپنی تعطیلات کے آغاز پر ہی میں نے شاترے کے ایک بڑے چوک میں بھاری حفاظتی انتظامات کے بغیر ہی سینکڑوں لوگوں کو ایک لائیو کنسرٹ میں ہنستے گاتے اور رقص کرتے دیکھا۔

بلاشبہ فرانس میں بہت سے ریلوے اسٹیشنوں اور ہوائی اڈوں پر بجا طور پر بہت ہی سخت حفاظتی انتظامات ہیں، جہاں کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کے لیے مسلح فوجی تعینات ہیں۔

Kommentarfoto Marcel Fürstenau Hauptstadtstudio

ڈی ڈبلیو سے وابستہ مارسیل فرسٹیناؤ

جب رینس کے کیتھیڈرل میں داخل ہوتے وقت مجھے اپنا سفری تھیلا باہر ہی رکھنے کو کہا گیا تو تب ایک لمحے کے لیے میرے ذہن میں دہشت گردی کے خطرے کی بات آئی، جو فرانس میں گزرے گزشتہ کئی ہفتوں کے دوران نہیں آئی تھی۔

میں نے کھلے آسمان تلے فرانسیسیوں کے ساتھ میلوں ٹھیلوں میں شرکت کی اور میں اُن کی بے نیازی کی تعریف کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔

اور گو نِیس کی سڑکوں پر لگے بارہ سو کیمرے بھی شہریوں کی حفاظت نہ کر سکے کیونکہ بقول ایک سماجی ماہر کے اُن کی موجودگی صرف علامتی ہی تھی، اس سال اکتوبر میں میرا نِیس جانے کا بھی ارادہ ہے تاکہ میں ایک بار پھر فرانسیسیوں کے پُر سکون طرزِ زندگی کو دیکھ سکوں۔