1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

دہشت گردی کے ردعمل میں خوف اور نفرت ایک غلطی، یورپی کلیسا

یورپی کلیسائی رہنماؤں نے پیرس میں اپنی ایک کانفرنس کے بعد کہا ہے کہ یورپی عوام کو دہشت گردی کے باعث پیدا ہونے والے خوف کی فضا سے نکلنا چاہیے کیونکہ خوف سے نفرت پیدا ہوتی ہے اور دوسروں کو رد کرنے کا جذبہ جنم لیتا ہے۔

Frankreich Terror in Paris Stade de France (Reuters/Ph. Wojazer)

’دہشت گردی ایک چیلنج ہے، جس کا جواب تقسیم کے بجائے اتحاد ہونا چاہیے‘

فرانسیسی دارالحکومت سے جمعہ تیرہ جنوری کو ملنے والی نیوز ایجنسی کے این اے کی رپورٹوں کے مطابق یہ بات مختلف ملکوں میں بشپس کانفرنسوں کی یورپی کونسل کی طرف سے پیرس منعقدہ پانچویں یورپی کیتھولک آرتھوڈوکس فورم کے اختتام پر آج جاری کردہ ایک بیان میں کہی گئی۔

بیان کے مطابق یورپی کلیسائی رہنماؤں نے اس دہشت گردی کے پس منظر میں، جس کا جرمنی، بیلجیم اور فرانس سمیت مختلف یورپی ملکوں کو سامنا ہے، یورپی عوام سے کہا کہ وہ دہشت گردانہ حملوں کے ردعمل میں اپنے اندر پیدا ہونے والے خوف پر قابو پائیں کیونکہ خوف سے نفرت جنم لیتی ہے، یہ انسانوں کو دوسرے انسانوں کو رد کرنے پر مجبور کر دیتی ہے اور اس کا نتیجہ بنیاد پرستی کی صورت میں نکلتا ہے۔

جرمنی سے مذہبی شدت پسند مہاجرین کی ملک بدری میں مشکلات

استنبول حملہ: دہشت گردی کے خلاف جنگ آخر تک، ایردوآن

’جرمن مسلم تنظیمیں بھی اسلام پسندانہ دہشت گردی پر نظر رکھیں‘

کرسمس مارکیٹ پر حملہ: ایک دن، جو جرمنی کو بدل دے گا، تبصرہ

اس بیان میں یورپی بشپس کی کانفرنسوں کی اس کونسل (CCEE) کے صدر کارڈینل انگیلو باگناسکو نے کہا، ’’یورپی معاشروں کو چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو مختلف سماجی گروپوں یا ریاستوں کی خود کو محصور کر لینے کی سوچ اور رجحانات سے دور رکھیں اور اپنے اندر پیدا ہونے والے خوف کے جذبات پر قابو پائیں۔‘‘

Belgien Polizisten vor dem Justizpalast in Brüssel (Getty Images/AFP/Belga/N. Lambert)

بیلجیم کے دارالحکومت برسلز میں متعدد خونریز دہشت گردانہ حملوں کے بعد قصر انصاف کے باہر ڈیوٹی پر موجود سکیورٹی اہلکار

Frankreich Terror in Paris Bataclan (Reuters/C. Hartmann)

پیرس کے ایک کنسرٹ ہال پر دہشت گردانہ حملے کے بعد کا منظر

اسی دوران یورپی آرتھوڈوکس مسیحیوں کے ایک اعلیٰ نمائندے کے طور پر برسلز کے آرتھوڈوکس میٹروپولٹ اتھیناگوراس نے بھی یہی کہا کہ سماجی عدم تحفظ کے احساس اور دہشت گردی کے ماحول میں کلیساؤں کو اپنی وہ تمام کوششیں کرنا چاہییں، جن کی مدد سے یورپی انسانی اور معاشرتی اقدار کا تحفظ کیا جا سکے۔

یورپی معاشروں میں حالیہ برسوں میں کیے جانے والے دہشت گردانہ حملوں کے اجتماعی اثرات اور ان کے نتیجے میں نسل پرستانہ سوچ اور دائیں بازو کی انتہا پسند جماعتوں کی مقبولیت میں اضافے جیسے عوامل کے خلاف خبردار کرتے ہوئے اس بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ دہشت گردی ایک چیلنج ہے، جس کا جواب ’تقسیم کے بجائے اتحاد‘ ہونا چاہیے۔

اس کلیسائی بیان کے مطابق یورپی عوام کو دہشت گردوں سے خوف کے مقابلے میں خود اپنے خوف زدہ ہونے کی حالت سے خوف کھانا چاہیے۔ اس بیان میں مزید کہا گیا ہے، ’’ایسے معاشرے جو خوف کی فضا، شکوک و شبہات اور بداعتمادی کی بنیادوں پر کام کرتے ہیں، زوال کا شکار ہو جاتے ہیں۔‘‘

DW.COM