1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

دہشت گردی کے خلاف سعودی عرب سمیت مسلم ممالک کا بلاک بنایا جائے، ایران

ایران نے تجویز پیش کی ہے کہ دہشت گردی کو ختم کرنے اور اقتصادی اشتراک عمل کو فروغ دینے کے لیے مسلم ممالک کا ایک ایسا بلاک تشکیل دیا جانا چاہیے، جس میں سعودی عرب بھی شامل ہو۔

آج اتوار کو ایک سکیورٹی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ملکی پارلیمان کے اسپیکر علی لاریجانی نے کہا کہ ایران اور سعودی عرب کو ترکی، مصر، عراق اور پاکستان کو ساتھ ملانا چاہیے اور ’اسلام کی بنیاد پر علاقائی امن‘ کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ فلسطینیوں کا دفاع کرنا چاہیے۔ ان کاکہنا تھا کہ اسی طرح دہشت گردی سے نمٹا اور اقتصادی مفادات کی حفاظت کی جا سکتی ہے۔

ایران اور سعودی عرب کو ایک دوسرے کے روایتی حریف سمجھا جاتا ہے اور یہ دونوں ہی ملک شام اور یمن میں متحارب گروپوں کی حمایت کر رہے ہیں۔ سعودی عرب نے رواں برس جنوری میں ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات اس وقت منقطع کر دیے تھے جب تہران میں مشتعل مظاہرین نے اس کے سفارت خانے پر حملہ کر دیا تھا۔ یہ مظاہرین سعودی عرب میں ایک شیعہ عالم کی پھانسی کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔

مشرق وسطیٰ: سیاسی لڑائی کے تباہ کُن فرقہ وارانہ نتائج

تاہم اپنی اس تقریر میں علی لاریجانی کا سعودی حکومت کو براہ راست مخاطب کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’سعودی عرب اور دوسری اقوام کو معلوم ہونا چاہیے کہ ایران ان کا دشمن نہیں ہے۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران ’’شام اور یمن میں جنگی جنون کی مخالفت‘‘ کرتا ہے اور ان علاقائی تنازعات کا حل چاہتا ہے۔ شام اور یمن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا، ’’قومی یک جہتی پر مبنی حکومتیں جمہوری طریقوں کا سہارا لے کر قائم کی جائیں۔‘‘

کیا ایران خطے میں اپنے اثرو رسوخ کو بڑھانے میں مصروف ہے؟ اس حوالے سے انہوں نے کہا، ’’ایران خطے میں نہ تو کسی سلطنت کے قیام کے پیچھے بھاگ رہا ہے اور نہ ہی قائدانہ کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔ ہمارا نقطہ نظر یہ ہے کہ اتحاد کو بہتر بنایا جائے۔‘‘

ایران شام میں صدر اسد کا انتہائی قریبی حلیف ہے جب کہ لبنان کے حزب اللہ اور عراقی شیعہ ملیشیا کو بھی اس کی حمایت حاصل ہے۔ گزشتہ ہفتے بحرین میں دو روزہ سکیورٹی سمٹ کا انعقاد کیا گیا تھا، جس میں مغرب کے حمایت یافتہ خلیجی ممالک کے رہنماؤں نے ایران کا مقابلہ کرنے کی ضرورت پر اتفاق کیا تھا۔ ان رہنماؤں کا کہنا تھا کہ ایران خطے میں ’عدم استحکام‘ کی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے، جس کا مقابلہ کیا جانا ضروری ہے۔

ایک برس پہلے دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے سعودی عرب نے چونتیس ممالک پر مشتمل ایک ’اسلامی فوجی اتحاد‘ کے قیام کا اعلان کیا۔ اس اتحاد میں ایران کو شامل نہیں کیا گیا تھا۔   

 

DW.COM