1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان ایک اہم اتحادی، لیون پنیٹا

امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے سربراہ لیون پنیٹا نے کہا ہے کہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد القاعدہ پر دباؤ برقرار رکھنے کے لیے پاکستان کے ساتھ تعاون ناگزیر ہے۔

default

لیون پنیٹا

لیون پنیٹا نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں پاکستان کا کردار اہم ہے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے بقول پنیٹا نے امریکی کانگریس کے ممبران کو لکھا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے ساتھ تعاون انتہائی اہم ہے، ’القاعدہ کی اعلٰی قیادت اور انہیں مدد فراہم کرنے والے دیگر گروپوں پر دباؤ برقرار رکھنے کے لیے پاکستان کے ساتھ تعاون قطعی ناگزیر ہے‘۔

سی آئی اے کے سربراہ پنیٹا نے البتہ اس بات پر بھی زور دیا کہ دہشت گردی کے خلاف جاری بین الاقوامی جنگ کو کامیاب بنانے کے لیے پاکستانی حکومت کو مزید بہت کچھ کرنا ہو گا۔ پنیٹا آج جمعرات کو امریکی سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کی ایک خصوصی میٹنگ میں بھی شریک ہو رہے ہیں۔ امریکی سینیٹ کی یہ کمیٹی لیون پنیٹا کی وزیر دفاع کے طور پر نامزدگی کا جائزہ بھی لے رہی ہے۔ سی آئی اے کے موجودہ سربراہ لیون پنیٹا کو رابرٹ گیٹس کی جگہ نیا وزیر دفاع نامزد کیا گیا ہے۔

Leon-Panetta designierter CIA Chef 2006

سی آئی اے کے موجودہ سربراہ لیون پنیٹا کو رابرٹ گیٹس کی جگہ نیا وزیر دفاع نامزد کیا گیا ہے

امریکی سینیٹ کی اس خصوصی کمیٹی کی سماعت میں شرکت سے ایک روز قبل پنیٹا نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات آسان نہیں ہیں اور دونوں ہی ملک آپس میں اختلافات رکھتے ہیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ انہیں ایسے کوئی شواہد نہیں ملے کہ پاکستان کی سول یا عسکری قیادت اسامہ بن لادن کی پاکستان میں موجودگی کے بارے میں باخبر تھی۔

دو مئی کو اسامہ بن لادن کو پاکستانی شہر ایبٹ آباد میں امریکی کمانڈوز کے ایک خفیہ آپریشن میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔ اس واقعے کے بعد یہ بحث شروع ہو گئی تھی کہ آیا پاکستانی فوج کے کچھ عناصر نے ممکنہ طور پر اسامہ بن لادن کو پناہ دے رکھی تھی۔

لیون پنیٹا نے مزید کہا، ’اگر تصدیق ہو بھی جاتی ہے، میں افغانستان اور پاکستان میں اپنے پارٹنرز کے ساتھ کام کرتا رہوں گا تاکہ دہشت گردوں کے نیٹ ورکس کو تباہ کر دیا جائے، جو امریکہ اور دیگر اتحادی ممالک کے لیے ایک بڑا خطرہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انسداد دہشت گردی کے لیے پاکستانی حکومت کو بھی مکمل تعاون کرنا چاہیے اور افغان طالبان کو کسی بھی قسم کی رعایت نہیں دینی چاہیے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس